اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے افق پر نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے نئے دور کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے Reuters کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود آئندہ چند روز میں پاکستان کے دارالحکومت پہنچ سکتے ہیں، جس کا مقصد باہمی کشیدگی میں کمی اور تعطل کا شکار سفارتی عمل کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت وسیع خطے میں عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے، اور عالمی برادری کسی مؤثر سفارتی پیش رفت کی منتظر ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے نہ صرف اس ممکنہ مذاکراتی عمل کی میزبانی کی پیشکش کی ہے بلکہ پسِ پردہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کو بھی سہل بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں تعینات ایرانی سفارتکاروں نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ رواں ہفتے کے اختتام یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے، جبکہ امریکی حکام بھی اس امکان کو مسترد نہیں کر رہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان نے مختلف مواقع پر خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کی ہیں، اور موجودہ صورتحال میں یہ کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
امریکی اخبار The New York Times نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اس پیش رفت کو نمایاں کرتے ہوئے لکھا کہ اسلام آباد ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنی حیثیت کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قیادت اس موقع کو ایک سفارتی کامیابی میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، جو نہ صرف اس کے عالمی امیج کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور امریکا کے ساتھ سفارتی روابط اسے اس نازک کردار کے لیے ایک موزوں انتخاب بناتے ہیں۔
ممکنہ مذاکرات میں جن اہم امور پر بات چیت متوقع ہے ان میں ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کے کردار، اور امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں شامل ہیں۔ یہ وہ نکات ہیں جو ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات کا باعث بنے اور 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی پیش رفت کو بھی متاثر کیا۔ Iran Nuclear Deal کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے بدلے میں اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں امریکا کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی نے صورتحال کو دوبارہ کشیدہ بنا دیا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق مذاکرات کی بحالی ایک پیچیدہ اور مرحلہ وار عمل ہو گا، جس میں اعتماد سازی کے اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنا آسان نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں پراکسی تنازعات اور سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ براہ راست بات چیت کا آغاز خود ایک مثبت پیش رفت ہے، جو مستقبل میں کسی بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس عمل کے لیے ایک محفوظ اور غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریقوں کو مکمل آزادی دی جائے گی تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے اپنے مؤقف کا اظہار کر سکیں۔ اس حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی سطح پر بھی تیاریاں جاری ہیں، تاکہ وفود کے قیام اور مذاکراتی عمل کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر J. D. Vance نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم Shehbaz Sharif اور آرمی چیف Asim Munir کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دو ایسے ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے جو طویل عرصے سے بامعنی مذاکرات سے دور رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اس عمل میں پاکستان کے کردار کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔ اس سے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، یہ پیش رفت عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے۔
تاہم کچھ ماہرین محتاط بھی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل کو فوری کامیابی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ مذاکراتی عمل میں کئی رکاوٹیں درپیش ہو سکتی ہیں، جن میں داخلی سیاسی دباؤ، علاقائی مفادات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت شامل ہیں۔ اس کے باوجود، اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کو ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
اسلام آباد کی یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک فعال اور ذمہ دار کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو نہ صرف پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ ہو گا بلکہ یہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
