فلم میرا لیار ی کو صرف “دھورندھر” کے جواب کے طور پر دیکھنا اس کے ساتھ زیادتی ہوگی۔یہ بات آج نوجوانوں کی پسندیدہ اداکارہ اور فلم “میرا لیاری” کی مرکزی کردار دا کرنے والی “دانینیر مبین نے یوکے ایشین فلم فیسٹیول میں شرکت کے دوران کہی ۔
فلم میرا لیاری ورلڈ پریمر شو ایشن فلم فیسٹول لندن میں 2 مئی کوکیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ فلم 8 مئی 2026 کودنیا بھر میں ریلیز ہونے جا رہی ہے ۔ فلم میں نمایاں اداکاروں میں دانا نیر، سمیعہ ممتاز، نیئر اعجاز اور دیگر شامل ہیں، جبکہ یہ ماڈل ٹرینیٹ لوکاس کی فلمی دنیا میں پہلی انٹری بھی ہے۔ جبکہ فلم کی ایگزیکٹو پروڈیوسر عائشہ عمرکے مطابق یہ پروجیکٹ لیاری کی “روح کو عالمی سطح پر پیش کرنے” کی کوشش ہے۔
دانانیر نے کہا کہ “اس فلم میں بہت سی پرتیں ہیں، اگر اسے صرف ایک پہلو سے دیکھا جائے تو یہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔”ان کے مطابق ناظرین کو چاہیے کہ فلم کو وسیع تناظر میں دیکھیں اور تمام موضوعات کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں لیاری، فٹبال کلچر، خواتین کے کھیلوں میں کردار اور جنوبی ایشیائی خواتین کی کہانی جیسے کئی اہم موضوعات شامل ہیں، اس لیے اسے ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فلم کی کہانی کراچی کے علاقے لیاری کو میں اب توجہ جرائم یا تشدد پر نہیں بلکہ لڑکیوں، فٹبال اور تعلیم پر ہے جس سے ان کا علاقہ پرامید ہے ہمارا کل بہتر ہوگا۔ کہانی ایک معذور فٹبال کوچ کے گرد گھومتی ہے، جو برسوں بعد لیاری واپس آتی ہے تاکہ مقامی لڑکیوں کو کھیل کی تربیت دے سکے۔ فلم کی ایگزیکٹو پروڈیوسر Ayesha Omar کے مطابق یہ پروجیکٹ لیاری کی “روح کو عالمی سطح پر پیش کرنے” کی کوشش ہے۔
“میرا لیاری ” کا مقصد دنیا کے سامنے کراچی کے قدیم علاقے” لیاری” کی ایک مثبت تصویر،اس کے ثقافتی رنگ اور کھیل کے لئے لائے گئے گولڈ میڈل اور ابن عظیم کھلاڑیوں کو یاد کرتے ہوئے اس کا اصل رخ پیش کرنا ہے۔ خاص طور پر آج کا لیاری جس کا اصل چہر اب فٹبال کی ٹیم اوران خواتین کی جدوجہد ہے جو اپنے علاقے کے لئے سامنے آ کر لڑ رہی ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خوبصورت فلم ہے جس میں لیاری کی اصل تصویر، وہاں کی خواتین اور ان کی جدوجہد کو دکھایا گیا ہے، اور اسے مکمل طور پر دیکھنا ضروری ہے۔