کراچی میں اس وقت “قیامت کی گرمی ” پڑ رہی ہے۔ درجہ حرارت شدید سے شدید تر ہوتا جارہے ۔ پہلے ہی گھروں میں ٹھنڈے مشروبات بننا شروع ہوگئے تھے اب خاص کر گرمی کا توڑ کرنے کے لئے فالسے ،املی ،الوبخارےاور کیرے شربت کسی حد تک راحت کا سامان پہنچا رہے ہیں ۔ آئیں جانتے ہیں کس طرح اس حدت کو کم کر سکتے ہیں تاکہ ہمارے جسم کچھ ٹھنڈک پاسکیں ۔ ہماری ان تپتی سڑکوں سے کیسے بچیں درخت ہم نے رہنے نہیں دئیے۔
یہ گرمی ہر سال ہی زیادہ شدت کے ساتھ شہری زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی درجہ حرارت اور نمی کا امتزاج نہ صرف روزمرہ معمولات کو مشکل بناتا ہے بلکہ صحت، معیشت اور شہری ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔آج کون نہیں ہے جیسے سڑک پر کرنے مزدور اور ٹرئفک سگنل پر کام کرنے ٹرئفک پولیس پر رحم نا آرہا ہوگا۔
رکشہ ڈرائیور، ڈیلی ویج مزدور، ٹریفک پولیس اور ڈیلیوری رائیڈرز اس شدید گرمی میں بھی اپنے کام میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے گرمی سے بچاؤ کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔ دوپہر کے اوقات میں جب درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، تو نمی کی وجہ سے محسوس ہونے والی گرمی اس سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔

یہی صورتحال صوبہ Sindh کے دیگر علاقوں میں مزید سنگین شکل اختیار کر لیتی ہے، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے اور خشک ہوائیں “لو” کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ تھرپارکر، نوابشاہ اور سکھر جیسے علاقوں میں پانی کی قلت اور شدید گرمی مل کر ایک پیچیدہ بحران کو جنم دیتے ہیں، جس کا اثر براہِ راست زراعت اور انسانی صحت پر پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق شہری پھیلاؤ، کنکریٹ کی بڑھتی ہوئی تعمیرات اور سبزہ کم ہونے کے باعث “ہیٹ آئس لینڈ ایفیکٹ” کراچی جیسے شہروں میں درجہ حرارت کو مزید بڑھا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی شہر کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت اور گرمی کی شدت میں واضح فرق محسوس کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر مضافاتی علاقوں میں جہاں بنیادی سہولیات محدود ہیں۔
گرمی کی یہ لہر صرف جسمانی نہیں بلکہ معاشی دباؤ بھی پیدا کرتی ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے لیے کام چھوڑنا ممکن نہیں، جبکہ ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کے کیسز ہسپتالوں میں بڑھنے لگتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق پانی کی کمی، نمکیات کی کمی اور مسلسل دھوپ میں رہنا انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم اس چیلنج کا مقابلہ صرف حکومتی اقدامات سے نہیں بلکہ عوامی شعور سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سادہ احتیاطی تدابیر جیسے زیادہ پانی پینا، دوپہر کے اوقات میں باہر نکلنے سے گریز، ہلکے کپڑے پہننا اور جسم کو ٹھنڈا رکھنا کئی جانیں بچا سکتی ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت اور دورانیہ دونوں میں اضافہ ہوگا۔ ایسے میں ضروری ہے کہ شہر کی منصوبہ بندی، پانی کی فراہمی، صحت کے نظام اور عوامی آگاہی کو ایک ساتھ مضبوط کیا جائے۔
کراچی کی گرمی اب ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں، لیکن درست حکمت عملی اور اجتماعی شعور کے ذریعے اس کے اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔