loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے بعد سیاسی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔

جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک اہم رہنما کے قریبی ساتھی چندرناتھ راٹھ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔

یہ واقعہ بدھ کی شب اس وقت پیش آیا جب وہ گاڑی میں اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ -برطانیوی نشریاتی ادارے کے مطامطابق حملہ آوروں نے قریب سے فائرنگ کی اور جائے وقوعہ سے گولیاں اور خول برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس نے ایک مشتبہ گاڑی بھی قبضے میں لے لی ہے جس کی نمبر پلیٹ جعلی نکلی۔

بی جے پی کے سینئر رہنما اور ممکنہ نئے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے اس قتل کو “سنگ دلانہ قتل” قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت پر قانون و انتظام کی ناکامی کا الزام لگایا۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے بھی قتل کی مذمت کرتے ہوئے عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاست میں انتخابات کے بعد پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف اضلاع، جن میں کولکتہ، مرشد آباد اور ہاوڑہ شامل ہیں، میں توڑ پھوڑ، آتش زنی اور سیاسی دفاتر پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں ایک دوسرے پر اپنے کارکنوں کے قتل اور تشدد کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

بی جے پی نے حالیہ انتخابات میں 294 میں سے 207 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ شوبھندو ادھیکاری نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو ان کے مضبوط حلقے بھابانی پور سے شکست دی، جسے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی کارکنوں نے کامیابی کے بعد “جے شری رام” کے نعرے لگاتے ہوئے جشن منایا، تاہم اسی دوران تشدد کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے۔

ٹی ایم سی نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے کولکتہ کی ایک مشہور مارکیٹ میں گوشت کی دکانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جسے ریاست میں مذہبی اور سماجی حساسیت کے تناظر میں خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

کولکتہ کی پریذیڈنسی یونیورسٹی کے سیاسیات کے استاد زعاد محمود نے برطانیوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ مغربی بنگال میں انتخابی تشدد کی جڑیں “پارٹی سوسائٹی” کے تصور میں پیوست ہیں، جہاں دیہی علاقوں میں سیاسی وابستگی روزمرہ زندگی، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ سے جڑی ہوتی ہے۔

ان کے مطابق اقتدار کی تبدیلی کو اکثر لوگ اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، اسی لیے انتخابات کے دوران اور بعد میں خوف اور تشدد کی فضا قائم رہتی ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔