loader-image
Karachi, PK
temperature icon 32°C
15-May-2026 27-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 32°C
15-May-2026 27-Zul Qa'dah-1447

پاکستانی ٹی وی ڈرامے  کی معروف اداکارہ اور ہدایتکارہ  انجلین ملک نے اپنی زندگی کی ایک مشکل جنگ کو صرف ذاتی آزمائش نہیں رہنے دیا بلکہ اسے خواتین کی صحت سے متعلق آگاہی کی  میں تبدیل کردیا۔وہ اس زندگی کے مرحلے کو نیو چیپٹر کا نام دیتی ہیں ۔

آپ سب کو ہی انجلین ملک کا مشہور ڈرامہ سیریل  ” کتنی گرہیں باقی ہیں” اور عمیرہ احمد  کا مشہور ناول پر مبنی ڈرامہ “لاحاصل” یاد ہوگا۔

اپنی اداکاری اور بعد میں ہداہتکاری ان کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئیں ۔ وہ ٹی وی اسکرین پر مضبوط اور معاشرتی مسائل پر مبنی کرداروں کے باعث پہچانی جاتی رہی ہیں۔ پہلے بھی ان کے ڈرامے صرف تفریح تک محدود نہیں رہے بلکہ خواتین کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور سماجی ناانصافی جیسے موضوعات کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔

 آج 51سالہ انجلین کی اصل جدوجہد اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے بریسٹ کینسر کے خلاف اپنی جنگ کے بارے میں کھل کر بات کی۔

View this post on Instagram

A post shared by Angeline Malik (@angelinemalikofficial)

پاکستان میں اکثر خواتین اپنی صحت کو نظر انداز کرتی ہیں۔ گھریلو ذمہ داریوں، سماجی دباؤ اور خوف کے باعث بہت سی خواتین بیماری کی ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بریسٹ کینسر کے کئی کیسز خطرناک مرحلے میں سامنے آتے ہیں۔ انجلین ملک نے اسی خاموشی کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کیمو تھراپی  کے دوران اپنی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں تھیں ۔ یہاں تک جب ان کے بال بیماری کی وجہ سے گرگئے ۔تو بھی باہمت انجلین نے ، گنجے سر کے ساتھ اپنی مسکراتی تصاویر سے لوگوں کو حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔ اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پران کا کہنا تھا کہ خوبصورتی صرف ظاہری شکل میں نہیں بلکہ انسان کے اعتماد اور حوصلے میں ہوتی ہے۔ ان کی یہی سوچ ہزاروں خواتین کے لیے امید کا پیغام بن گئی۔

سوشل میڈیا پر ان کے پیغامات تیزی سے وائرل ہوئے۔ کئی خواتین نے کمنٹس میں لکھا کہ انجلین ملک کی کہانی سن کر انہوں نے پہلی بار اپنا میدیکل چیک اپ کروانے کا فیصلہ کیا۔ کچھ خواتین نے اپنی بیماری اور ذہنی دباؤ کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔

انجلین ملک نے اپنی گفتگو میں بارہا ابتدائی تشخیص کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ باقاعدہ چیک اپ کروائیں اور اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں۔ ڈاکٹروں کے مطابق اگر بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص ہوجائے تو علاج کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔

ان کی جدوجہد صرف بیماری تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے خواتین کو خود پر یقین اور مکمل اعتماد رکھنے  کا پیغام بھی دیا۔ کیموتھراپی کے دوران انہوں نے ایک فیشن شو میں ریمپ واک کی، جسے سوشل میڈیا پر بے حد سراہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتی تھیں کہ بیماری انسان کی شناخت یا خواب ختم نہیں کرسکتی۔

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں کینسر کے موضوع پر بات کرنا بھی مشکل سمجھا جاتا ہے، وہاں انجلین ملک کی کھل کر گفتگو ایک مثبت تبدیلی تصور کی جارہی ہے۔ ماہرین کے مطابق مشہور شخصیات جب اپنی بیماری اور تجربات کے بارے میں بات کرتی ہیں تو عوام میں شعور بڑھتا ہے اور لوگ بروقت علاج کی طرف توجہ دیتے ہیں۔

آج انجلین ملک صرف ایک اداکارہ نہیں بلکہ امید، حوصلے اور آگاہی کی علامت بن چکی ہیں۔ ان کی کہانی ان خواتین کے لیے پیغام ہے جو بیماری، خوف یا معاشرتی دباؤ کے باعث خاموش رہتی ہیں۔ انجلین ملک نے ثابت کیا کہ مشکل وقت انسان کو کمزور نہیں بلکہ زیادہ مضبوط بھی بنا سکتا ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں