آہ کیا کہہ دیا آپ نے … کیا یاد کروا دیا …ہمارے زخموں پہ نمک پاشی …
آج یہ لکھتے ہوئے قطعی کوئی تامل نہیں کہ ہم اچھی پیرنٹنگ سے قطعی ناواقف تھے بالکل ویسے ہی جیسے زیادہ تر ماں باپ خود کو حاکم / مالک سمجھ کر بچوں پہ حکم چلاتے ہیں ۔ تربیت کے نام پہ انہیں توڑ موڑ دیتے ہیں
ان کی دلی خواہش کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں وہ میڈل بنانا چاہتے ہیں جسے چھاتی پہ لگا کر سب کی واہ واہ وصول کی جائے ،
کیوں یہ مضامین پڑھے ؟
کیوں کلاس میں فرسٹ نہیں آئے ؟
کیوں سٹیج پہ نہیں چڑھے ؟
کیوں یہ ہیر سٹائل بنایا ؟
کیوں یہ عجیب سا رنگ پہنا ؟
کیوں اس لڑکے کو دوست بنایا ؟
کیوں اس لڑکی سے اتنی دیر باتیں کیں ؟
کیوں اتنی دیر سوئے ؟
کیوں دیر سے سوئے ؟
کیوں جاگے ؟
کیوں یہ کپڑے پہنے ؟
کھانا کھاتے ہوئے اس قدر منہ کیوں بنایا ؟
فلاں کو دیکھ کر منہ کیوں بنایا ؟
مہمانوں سے اچھی طرح بات کیوں نہیں کی ؟
کیوں تنگ کپڑے پہنے ؟
بالوں کا یہ سٹائل کیوں ؟
فون کا اتنا استعمال کیوں ؟
میرا فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟
دیر سے گھر کیوں آئے ؟
کیوں ؟ کیوں ؟ کیوں ؟ کیوں ؟
ہمیں یہ لکھنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ہم ایک ایسے گھر سے تھے جہاں اس قسم کی کیوں کیوں کی گردان تھی ہی نہیں ۔ ہم امی ابا کو دیکھ دیکھ کر سیکھتے تھے … حکم دینے اور لیکچر بازی گھر میں تھی ہی نہیں …
پھر ہمیں کیا ہوا ؟
اس قدر زبردست پیرنٹنگ کے بعد ہمارا دماغ کیوں گھوم گیا ؟ ہم کنٹرولنگ نظام کے اس قدر عقیدت مند کیسے بن گئے ؟ ہم نے ویسی پیرنٹنگ کیوں نہیں کی جیسی ہماری ہوئی ؟
جس طرح آپ سب کو یقین نہیں آتا نا کہ ہمارے ماں باپ جیسی پیرنٹنگ کام کی نکلے گی … ویسے ہی ہم جس گھر گئے وہاں بھی یہ یقین نہیں تھا … تنقید اور طنز گفتگو میں بدرجہ اتم پائے جاتے تھے .. یونہی … بچوں کو بے وقوف سمجھ کر ان کی زندگی کے فیصلے کیے جاتے تھے … سو ہم پہ بھی کچھ نہ کچھ اثر ہو گیا …نہیں …کچھ نہ کچھ نہیں بلکہ کافی کچھ
ہم ان کی ٹرینی بن گئے … اور وہ سب کچھ بھلا دیا جس کے بل بوتے پہ ایسا شاندار بچپن گزارا تھا ۔وللہ ہم کوئی ایکسکیوز نہیں پیش کر رہے .. ہم اپنے آپ کو بری الزمہ نہیں سمجھتے مگر ہو گئی چوک … ہم اپنے امی ابا جیسے سمجھ دار نہیں تھے ۔ نہ ہمارے اور صاحب کے پاس امی ابا جیسی فطرت تھی
سو بچوں پہ چیخے بھی بہت ، چلائے بھی خوب .. رعب جمایا , تھپڑ بھی لگائے … ڈانٹ ، روک ٹوک ، لیکچر بازی اور بہت کچھ ہمیں روکتا کون ؟ صاحب تو ہم نوا تھے ۔ امی موجود ہوتیں افسردہ ہو جاتیں ، سرد آہ بھر کے کہتیں … میں نے تو ایسا کبھی نہیں کیا تھا ..
اپنے رویے کی بدصورتی کااندازہ تو ہوا مگر کچھ دیر سے … اور کیا آپ یقین کریں گے کہ اس میں ہماری مدد ہماری بڑی بیٹی نے کی جس نے ہمیں نہ صرف ہمیں پیرنٹنگ کتابیں پڑھوائیں بلکہ ایک ایک چیز کو کھول کر بیان کیا
بچہ کیسے تنہا محسوس کرتا ہے ؟
بچہ کیسے بے بس ہو جاتا ہے ؟
بچے کو گھر برا کیوں لگنا شروع ہوتا ہے ؟
بچہ اپنی زندگی کو کس طرح گزارنا چاہتا ہے ؟
اس کے زندگی کے متعلق خواب اور عزائم ہیں ؟
بچہ ماں باپ کے متعلق کیا سوچتا ہے ؟
بچے کے اندر پلنے والے جذبات کیا کہتے ہیں ؟
بچہ باہر کی دنیا اور گھر کی دنیا کو کیسے مینج کرتا ہے ؟
بچہ اپنے آپ کو کٹھ پتلی کیوں سمجھتا ہے ؟
بچہ طنز اور تنقید کے تیر کس طرح سہتا ہے ؟
والدین کے احسانات کا تذکرہ سن سن کر بچے کے کیا حالت ہوتی ہے ؟
بچے کا اعتبار کس طرح ریزہ ریزہ ہوتا ہے ؟
بچہ کس طرح اپنے وجود پہ شرمندہ ہوتا ہے ؟
بچے کو زندگی کیوں بری لگنے لگتی ہے ؟
بچہ کیوں ماں باپ سے دور بھاگنا چاہتا ہے ؟
بچہ ماں باپ سے بات کرنا کیوں کم کر دیتا ہے ؟
بچے کا دل کیوں اچاٹ ہو جاتا ہے ؟
یقین مانیے یہ سب کچھ ہم نے سیکھا .. سیکھا ہم نے … اور سکھانے والی بنی ہماری بیٹی … جو ہماری ماں بن گئی ۔ اور پھر ہم نے ان سے معافی مانگی … ہر اس بات پہ جن سے ان کی دل آزاری ہوئی .. جی ہم نے معافی مانگی …. ہم جنہوں نے انہیں دنیا کی اعلیٰ ترین یونی ورسٹیوں میں بھیجا مگر ہم یہ سمجھ چکے تھے کہ پیسہ ہر چیز کا مرہم نہیں ہوتا۔
باتوں کا مرہم باتیں ہی ہوتی ہیں … الفت بھری … انہیں گلے سے لگاکر ، اپنی کمزوریوں کا ذکر کر کے … اپنی غلطیوں کو مان کر یقین جانیں بچوں کا ظرف ماں باپ سے بڑا ہوتا ہے ..
سو آج ہم وہی ہیں جو امی ابا تھے … بچوں کی خاطر خود کو ہر وقت مٹانے پہ تیار … کوئی احسان نہیں ، کوئی میں میں نہیں بس وہی ہیں ہمارا کُل … جو چاہیں ، جیسے چاہیں …وہ ہنسیں تو ہم ہنسیں … واللہ کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ چمڑی کے جوتے بنا کر پہنا دیں انہیں …
سو کہنا یہ ہے کہ صرف پیٹ سے بچہ نکالنے سے نہ کوئی اچھی ماں بنتی ہے نہ کوئی اچھا باپ … باتوں سے تربیت کوئی تربیت نہیں۔
آپ کی زندگی تب ہی گلزار بن سکتی ہے جب آپ بچوں کو اپنے جیسا انسان سمجھیں .. بچپن سے ہی … ان کو فیصلہ کرنے دیں … ان کی زندگی کو کنٹرول کرنا چھوڑ دیں … خود کو ان کا مالک اور حاکم سمجھنا چھوڑ دیں …
وہ اللہ کے مہمان ہیں آپ کے آنگن میں … اور ان سے ویسا ہی سلوک کریں … عزت ، الفت اور مہربانی ۔۔ایک دن آئے گا جب وہ مہمان آپ کے دل کو پھولوں سے بھر دیں گے۔
مائیکل جیکسن کی مثال یاد رکھیں جو مرتے دم تک اپنے باپ کے تشدد کو دہراتا رہا اور یہ بھی کہ اس کی ماں اسے نہ بچا سکی ۔
مغرب کی مثال پسند نہ آئے تو ہم ایک لڑکے کی کہانی سنائے دیتے ہیں ۔ پڑھے لکھے ماں باپ کی اولاد مگر شکل و صورت پہ شاید ماں باپ نے اپنی بڑائی کے زعم میں معافی نہیں مانگی تنقید سہتے بڑا ہوا ۔ اور پھر ایسا دل برداشتہ کہ گھر ہی چھوڑ گیا … اب ماں باپ کے شہر میں ہی رہتا ہے مگر کوئی رابطہ نہیں