loader-image
Karachi, PK
temperature icon 34°C
31-May-2026 13-Zul Hijjah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 34°C
31-May-2026 13-Zul Hijjah-1447

سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ، تنخواہوں، پنشن، ترقیاتی اخراجات اور محصولات کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور الاونسز میں اضافے سے متعلق متعدد تجاویز زیر غور ہیں۔

سندھ کابینہ کے سامنے پیش اور منظور کیے گئے بجٹ اسٹریٹیجی پیپر 2026-27 تا 2028-29 کے مطابق آئندہ مالی سال میں صوبے کی مجموعی آمدن 3,244.6 ارب روپے جبکہ مجموعی اخراجات 3,562.7 ارب روپے رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ دوسری جانب محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے محکموں کی سفارشات کی روشنی میں 607 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی تیار کر لیا ہے تاہم بعض نئی اسکیمز حتمی ڈرافٹ سے نکالے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پبلک فنانس ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2020 کے تحت محکمہ خزانہ ہر سال 15 اپریل تک بجٹ اسٹریٹیجی پیپر (BSP) تیار کرنے کا پابند ہے جسے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے بھی پیش کیا جاتا ہے۔ بجٹ اسٹریٹیجی پیپر آئندہ تین برسوں میں حکومتی پالیسیوں، مالی ترجیحات، وسائل کی تقسیم، ترقیاتی اہداف اور معاشی تخمینوں کا تعین کرتا ہے۔

دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی آمدن کا اصل تخمینہ 2,824.2 ارب روپے تھا، تاہم نظرثانی شدہ تخمینے میں یہ کم ہو کر 2,737.5 ارب روپے رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اصل تخمینے سے 3.1 فیصد کم ہے۔ آئندہ تین برسوں میں صوبائی آمدن کی اوسط سالانہ شرح نمو 11.3 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

بجٹ اسٹریٹیجی پیپر کے مطابق مالی سال 2026-27 میں سندھ حکومت کی مجموعی آمدن 3,244.6 ارب روپے، 2027-28 میں 3,582.8 ارب روپے اور 2028-29 میں 3,898.3 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق صوبے کی آمدن کا بڑا انحصار بدستور وفاقی منتقلیوں پر رہے گا۔ مالی سال 2023-24 میں مجموعی آمدن میں وفاقی منتقلیوں کا حصہ 75.7 فیصد جبکہ 2024-25 میں 76.3 فیصد رہا۔ جاری مالی سال 2025-26 میں یہ تناسب 75.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ آئندہ تین برسوں میں بھی مجموعی محصولات کا تقریباً 75 فیصد حصہ وفاقی منتقلیوں پر مشتمل رہنے کا امکان ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق سروسز پر سیلز ٹیکس صوبائی محصولات کا سب سے بڑا ذریعہ رہے گا، جس سے آئندہ مالی سال 2026-27 میں 430.5 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ دیگر ٹیکس وصولیوں کا ہدف 345.5 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ غیر ٹیکس آمدن 57.8 ارب روپے رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اخراجات کے حوالے سے دستاویز میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3,160.3 ارب روپے لگایا گیا تھا، تاہم نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق اس میں 141.5 ارب روپے کمی کے بعد اخراجات 3,018.8 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی اخراجات 3,562.7 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق جاری اخراجات (Current Revenue Expenditure) آئندہ مالی سال میں 2,400.5 ارب روپے تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی اخراجات 1,162.2 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ حکومت نے آئندہ برسوں میں جاری اخراجات میں 9.2 فیصد جبکہ ترقیاتی اخراجات میں 4.2 فیصد اوسط اضافہ متوقع قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق تین سلیب بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔ تنخواہوں میں 10 فیصد عمومی اضافے کی تجویز کے علاوہ گریڈ 1 تا 5 کے ملازمین کے لیے 12 فیصد اور گریڈ 6 تا 16 کے لیے 10 فیصد اضافے پر بھی غور جاری ہے، جبکہ پنشنرز کے لیے 5 سے 8 فصد اضافے کی تویز زیر غور ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کے مجموعی اخراجات میں تنخواہوں، پنشن اور مراعات کا بڑا حصہ شامل ہے۔ مالی سال 2023-24 میں ملازمین سے متعلق اخراجات 521.3 ارب روپے تھے، جو 2024-25 میں بڑھ کر 566.8 ارب روپے ہو گئے۔ جاری مالی سال 2025-26 میں اس مد میں 840.3 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم نظرثانی شدہ تخمینے میں یہ اخراجات کم ہو کر 678.8 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔

اسی طرح پنشن ادائیگیاں 2023-24 میں 249.4 ارب روپے، 2024-25 میں 309.3 ارب روپے رہیں، جبکہ رواں مالی سال میں 271.3 ارب روپے کے مقابلے میں نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق 291.4 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

بجٹ اسٹریٹیجی پیپر میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ محصولات میں کمی کا سب سے زیادہ اثر

سرکاری دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کے مجموعی اخراجات میں تنخواہوں، پنشن اور مراعات کا بڑا حصہ شامل ہے۔ مالی سال 2023-24 میں ملازمین سے متعلق اخراجات 521.3 ارب روپے تھے، جو 2024-25 میں بڑھ کر 566.8 ارب روپے ہو گئے۔ جاری مالی سال 2025-26 میں اس مد میں 840.3 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم نظرثانی شدہ تخمینے میں یہ اخراجات کم ہو کر 678.8 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔

اسی طرح پنشن ادائیگیاں 2023-24 میں 249.4 ارب روپے، 2024-25 میں 309.3 ارب روپے رہیں، جبکہ رواں مالی سال میں 271.3 ارب روپے کے مقابلے میں نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق 291.4 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

بجٹ اسٹریٹیجی پیپر میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ محصولات میں کمی کا سب سے زیادہ اثر ترقیاتی اخراجات پر پڑتا ہے، جبکہ تنخواہیں، پنشن، گرانٹس، سبسڈیز اور آپریشنل اخراجات نسبتاً غیر لچکدار رہتے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں محصولات کے اہداف پورے نہ ہونے کے باعث ترقیاتی اخراجات متاثر ہوئے، جبکہ منصوبوں پر عملدرآمد میں تاخیر، پراجیکٹ مینجمنٹ کی کمزور صلاحیت اور کیش فلو مینجمنٹ کے مسائل کو اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں (FPA) کے لیے رواں مالی سال 384.8 ارب روپے متوقع ہیں، جبکہ آئندہ برسوں میں بیرونی قرضوں پر انحصار بتدریج کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ اسی طرح قرضوں کی واپسی اور سرمایہ جاتی اخراجات آئندہ مالی سال میں 281.7 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔

دوسری جانب محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے آئندہ مالی سال کے لیے 607 ارب روپے کا اے ڈی پی مرتب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مختص کیا جائے گا، جبکہ بعض نئی اسکیمز حتمی فہرست سے خارج کی جا سکتی ہیں۔

One Response

  1. Public Finance is gimmicks of figure to generate funds to meet anticipated targets current and concurrent and noncurrent irrespective public welfare at large. Corporate culture ensure enhancement in resources exploiting consumers pushing middle classes to downtrodden below poverty line

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں