loader-image
Karachi, PK
temperature icon 32°C
5-Jun-2026 18-Zul Hijjah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 32°C
5-Jun-2026 18-Zul Hijjah-1447

اقوامِ متحدہ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال سے ماحول پر پڑھنے والے سنگین اثرات کو سنجیدگی سے لینے کے لیے خبردار کر دیا۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری وارننگ میں دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ  مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اثرات کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ تیزی سے پھیلتی ہوئی  ٹیکنالوجی توانائی، پانی کی طلب اور کاربن اخراج میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔

اے آئی ڈیٹا سینٹرز چلانے کے لیے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے اور مشینوں کو  ٹھنڈا رکھنے کے لیے بے شمار پانی استعمال ہوتا ہے جبکہ ان کے قیام کے لیے وسیع اراضی بھی درکار ہوتی ہے۔

کینیڈا میں قائم یو این انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اے آئی کا ماحولیاتی اثر صرف ڈیٹا سینٹرز تک محدود نہیں۔ کمپیوٹر چپس کی تیاری، نایاب معدنیات کے استعمال اور بڑھتے ہوئے الیکٹرانک فضلے کی صورت میں بھی یہ ٹیکنالوجی ماحول پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف بنیادی ڈھانچے ہی نہیں بلکہ اربوں صارفین کی روزمرہ سرگرمیاں بھی اس بوجھ میں اضافہ کرتی ہیں۔ ہر سوال، ہر تحریری ہدایت (پرامپٹ)، ہر تیار کی گئی تصویر اور ہر سرچ کو انجام دینے کے لیے درکار کمپیوٹنگ طاقت ماحول پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

رپورٹ میں حکومتوں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ہر فیصلے میں ماحولیاتی عوامل کو بنیادی اہمیت دیں تاکہ اس طاقتور ٹیکنالوجی کی ترقی پائیدار رہے اور مستقبل میں ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ نہ بن جائے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں