پیپلزپارٹی ملک کی ایک پرانی اور بہت تجربے کار سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے قیام سے لیکر اب تک گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران سیاست کے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ۔ سیاسی حرکیات پر اس کی ہمیشہ گہری نظر رہی ہے ۔
وہ سیاسی نظام، معاشرے اور ریاست کے اندر ہونے والی مسلسل تبدیلیوں، طاقت کی کشمکش، دیگر جماعتوں کے رویہ عوام کے مزاج اور وقت کی نزاکت کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل دیتی ہے ۔ پیپلزپارٹی کو اپنے قیام سے لیکر اب تک مزاحمت اور مفاہمت دونوں طرح کی سیاست کا وسیع تجربہ ہے ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اگر مزاحمت کی سیاست کا استعارہ تھے تو محترم آصف علی زرداری مفاہمت کی سیاست کے بہت بڑے داعی کے طور مشہور ہیں
پیپلز پارٹی کا یہ خاصا رہا ہے کہ اس نے اپنی مزاحمت اور مفاہمت دونوں طرح کی سیاست کے دوران کبھی بھی مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونے دیا اور اسے ہمیشہ کھلا رکھا ۔ پیپلز پارٹی نے ہر دور میں اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے دیکھا جائے تو یہ کام کسی زمانے میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک مرحوم کی ہوا کرتی تھی پھر یہی کردار قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ ادا کرتے نظر آئے ۔ اب غالباً یہ ذمہ داری سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو دی گئی ہے ۔ ان تمام لوگوں کو پیپلز پارٹی کا ” ٹرابل شوٹر “ کہا جاسکتا ہے ۔لئے اپنی ہی صفوں سے ایسے باصلاحیت رابطہ کار بھی رکھے جو متعلقہ فریق سے بامقصد بات چیت کرسکیں ۔



ان تینوں سیاسی شخصیات کو اپنی اپنی سیاسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بہت مختلف ماحول ملا مگر پھر بھی ان کے درمیان کوئی قدر مشترک ہوسکتی ہے تو وہ ان تینوں کا دھیمہ مزاج ٫ مفاہمانہ انداز گفتگو اور عاجزانہ رویہ ہے ۔
رحمٰن ملک مرحوم ماضی میں ایم کیو ایم ٫ پی پی حکومت اور مقتدرہ کے درمیان بگڑتے سنورتے معاملات میں ایک پُل کا کردار ادا کیا کرتے تھے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان لندن میں طے پانے والے” میثاق جمہوریت “ میں بھی ان کا بہت نمایاں کردار تھا ۔ خورشید شاہ نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر نہ صرف مختلف سیاسی جماعتوں اور پارٹی کے درمیان ایک سرگرم رابطہ کار کا کردار ادا کیا بلکہ ایک زمانے میں وہ پیپلز پارٹی اور مقتدرہ کے مابین رابطے کا سب سے اہم اور موثر ذریعہ بھی سمجھے جاتے تھے ۔
جہاں تک شرجیل انعام میمن کی بات ہے تو انھوں نے بہت تھوڑے عرصے میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور اقتدار کی اصل راہداریوں میں اپنا مقام بنایا ہے۔ وہ ایک طرف صدر مملکت کے معتمد خاص بھی ہیں اور حکومت سندھ کی ضرارت بھی ۔ اسی سبب ان کے اہم غیرملکی دوروں میں بھی ان کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔
ان دنوں پیپلز پارٹی کی سیاست اور حکومت دونوں کو کئی سنجیدہ چیلنجوں اور طرح طرح کی افواہوں کا سامنا ہے ۔ ایسے ماحول میں سندھ کے سینئر وزیر کا حالیہ دورہ اسلام آباد خاصی اہمیت کا حامل ہے ۔ شرجیل میمن کی موجودہ بھاگ دوڑ اگر نتیجہ خیز ثابت ہوئی تو سندھ کی سیاست میں ان کا سیاسی کردار مزید کشادہ ہوسکتا ہے۔