کراچی: سندھ حکومت نے تخمینہ لگایا ہے کہ آئندہ تین برسوں کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے صوبائی خزانے پر مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
محکمہ خزانہ سندھ کی بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے 840 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم یہ اخراجات مالی سال 2028-29 تک بڑھ کر 1156.6 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کی مد میں اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں اس مد میں اخراجات کا تخمینہ 271 ارب روپے لگایا گیا تھا جو 2028-29 تک بڑھ کر 351 ارب روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔

محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ حکومت کی منظور شدہ سرکاری اسامیوں کی تعداد 7 لاکھ 52 ہزار 69 ہے۔ بجٹ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ مجموعی صوبائی بجٹ میں تنخواہوں کا حصہ تقریباً 24.5 فیصد بنتا ہے، جو حکومتی اخراجات کا ایک بڑا جزو ہے۔
ماہرین کے مطابق تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات صوبائی مالی وسائل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس کے باعث حکومت کو آمدنی میں اضافے اور اخراجات کے مؤثر انتظام کے لیے مزید اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔