مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں نے سنگین صورت اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار شہید جبکہ کم از کم 20 افراد زخمی ہوگئے۔
ڈان اخبار کے مطابق یہ واقعہ راولاکوٹ میں پیش آیا، جہاں جے اے اے سی کے کارکن احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو حالات کشیدہ ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ مظاہرین نے جوابی طور پر پتھراؤ کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران چار اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ 20 دیگر زخمی ہوئے۔ متعدد زخمیوں کو مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
آزاد کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے فوجی اسپتال (سی ایم ایچ) پر حملے کو “کھلی دہشت گردی” قرار دیا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔
احتجاج کا سلسلہ اس وقت شدت اختیار کرگیا جب حکومت نے جے اے اے سی کو کالعدم قرار دیا۔ تنظیم کے حامی اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ بعض مقامات پر شاہراہیں بند کی گئیں اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دوسری جانب مظاہرین کا مؤقف ہے کہ حکومت سیاسی اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک تدفین نہیں کریں گے جب تک حکومت جے اے اے سی پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیتی۔
ادھر آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے بھی ایک اہم ریمارکس میں کہا ہے کہ آئین میں تبدیلیاں حکومت سے “چھیننے جانے والی رعایت” نہیں ہونی چاہئیں بلکہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہونی چاہئیں۔
حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کردی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات نہ ہوئے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔