loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
16-Jul-2026
30-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
16-Jul-2026
30-Muharram-1448
  • ایران نے بیروت حملوں کے جواب میں اسرائیل پر میزائل داغے۔
  • اسرائیل نے کہا بیشتر میزائل روک لیے گئے۔
  • ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے نیتن یاہو سے رابطے کا اعلان کیا۔

ایران نے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائلوں کی نئے مزائل داغ دیے ہیں۔ یہ کارروائی بیروت میں اسرائیلی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس تازہ صورتحال نے خطے میں پہلے سے موجود نازک امن عمل کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے میزائل حملے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ایران نے اسے “کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ میزائل حملے ایک “تنبیہی پیغام” ہیں، اور اگر اسرائیل نے مزید جارحیت کی تو ردعمل مزید سخت اور وسیع ہوگا۔ ایرانی حکام کے مطابق مستقبل میں امریکی اور اسرائیلی مفادات بھی نشانے پر آ سکتے ہیں اگر کشیدگی جاری رہی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے کئی میزائلوں کو دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کر دیا یا وہ غیر آباد علاقوں میں گرے۔ تاہم اس کے باوجود خطے میں خطرے کی فضا برقرار ہے اور سائرن مسلسل بجتے رہے۔

اسی دوران امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ کریں گے تاکہ انہیں ایران پر جوابی کارروائی سے روکا جا سکے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ ایک “حتمی معاہدے” کے قریب ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ کشیدگی اس عمل کو سبوتاژ کرے۔

ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی “بہت خطرناک” ہے اور اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کی کوشش ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جائے۔

ادھر اسرائیل کی جانب سے بھی سخت ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم امریکی دباؤ اور سفارتی کوششوں کے باعث فوری بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا فیصلہ موخر ہو سکتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اس وقت پسِ پردہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ تازہ کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں لبنان، غزہ اور خطے کی بڑی طاقتیں بھی غیر مستقیم طور پر شامل ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صورتحال کسی بھی وقت بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ ایک نئے اور زیادہ خطرناک تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں