“جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ قیامت کے دن اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے اپنے لمس سے مخبوط الحواس کر دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ خرید و فروخت بھی تو سود ہی کی ایک قسم ہے، حالانکہ اللہ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ … اور اگر مقروض تنگ دستی میں ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو۔”سورۃ البقرہ، ترجمہ: محمد اسد
پاکستان میں اسلامی بینکاری کا آغاز 1979 میں ہوا اور 1985 تک تجارتی بینکوں نے “سود” کی اصطلاح استعمال کرنا چھوڑ دی اور اس کی جگہ “مارک اپ” کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ تاہم وقت کے ساتھ واضح ہو گیا کہ اس قسم کی “اسلامی” بینکاری درحقیقت اسلامی نہیں تھی بلکہ صرف “سود” کا نام بدل کر “مارک اپ” رکھ دیا گیا تھا۔
پاکستان میں جدید اسلامی بینکاری کا آغاز 2002 میں ہوا جب پہلا مکمل اسلامی بینک کام کرنے لگا۔ اس کے بعد اسلامی بینکاری نے تیزی سے ترقی کی اور آج ملک میں متعدد اسلامی بینک موجود ہیں۔ اسلامی بینک زیادہ منافع بخش ثابت ہوئے ہیں اور پاکستانیوں میں اسلامی اصولوں کے مطابق بینکاری کرنے کی خواہش بھی خاصی پائی جاتی ہے۔
اب اسلامی بینکوں کے پاس شریعہ بورڈ موجود ہیں جو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کوئی بینکاری سہولت شریعت کے مطابق ہے یا نہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس بھی ایک شریعہ ایڈوائزری کمیٹی موجود ہے۔ ہم صرف بینکاری تک محدود نہیں رہے بلکہ حکومت اب صکوک (اثاثوں کی بنیاد پر جاری کیے جانے والے طویل المدتی بانڈز) بھی جاری کرتی ہے، اسلامی لیزنگ جسے اجارہ کہا جاتا ہے، اور اسلامی انشورنس جسے تکافل کہا جاتا ہے، بھی موجود ہیں۔
اب ہمیں یہ جائزہ لینا چاہیے کہ اسلامی بینکاری قرآن کے احکامات سے کتنی قریب ہے۔
اگلے سال جب ہم اسلامی بینکاری کی صنعت کی سلور جوبلی منائیں گے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلامی بینکاری قرآن کی تعلیمات سے کتنی ہم آہنگ ہے اور کیا یہ اسلامی نظریات کے مزید قریب آئی ہے یا نہیں۔
کوئی کمپنی اپنی ورکنگ کیپیٹل یا طویل المدتی منصوبوں کے لیے روایتی بینک سے قرض حاصل کر سکتی ہے۔ جبکہ اسلامی بینک سے اسے مشارکہ، مرابحہ یا استصناع فنانسنگ حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر استصناع فنانسنگ میں اگر کوئی کمپنی کپاس خریدنے کے لیے قرض چاہتی ہے تو بینک 10 ملین روپے کی کپاس خرید کر کمپنی کو ایک سال بعد 11 ملین روپے یا چھ ماہ بعد 10.5 ملین روپے میں فروخت کرے گا۔ عملی طور پر بینک نہ تو کپاس خریدتا ہے اور نہ ہی فروخت کرتا ہے، البتہ کاغذی کارروائی کے ذریعے ایسا ظاہر کیا جاتا ہے۔ بینک کا منافع مکمل طور پر اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ پالیسی ریٹ پر منحصر ہوتا ہے۔ جب پالیسی ریٹ زیادہ ہو تو بینک کا منافع بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
مشارکہ فنانسنگ میں بھی اسلامی بینک جو منافع وصول کرتا ہے وہ اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر روایتی بینک پالیسی ریٹ سے دو فیصد زیادہ شرح وصول کر رہے ہوں تو اسلامی بینک بھی تقریباً اتنی ہی شرح منافع طلب کرتے ہیں۔ اگر قرض کی مدت کے دوران پالیسی ریٹ بڑھ جائے تو اسلامی بینک بھی اپنی منافع کی شرح میں اسی تناسب سے اضافہ کر دیتے ہیں۔
جس طرح روایتی بینک کمپنی کے منافع یا نقصان سے قطع نظر سود وصول کرتے ہیں، اسی طرح اسلامی بینک بھی اس وقت نقصان برداشت نہیں کرتے جب ان کا گاہک خسارے میں ہو۔ نادہندگی یا قرض کی تنظیمِ نو کے علاوہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی اسلامی بینک نے اپنے قرض لینے والے کے نقصان کی وجہ سے خود نقصان اٹھایا ہو۔
یہ صورتحال اس تجارتی اور خطرے میں شراکت داری والے قرض کے تصور سے مختلف دکھائی دیتی ہے جس کا اسلام تصور پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کمپنی ایک ہزار گانٹھ کپاس خریدنے کے لیے استصناع فنانسنگ حاصل کرے تو عام تصور یہی ہوگا کہ واپسی بھی کپاس کی قیمت کے مطابق ہو۔ اگر کپاس کی قیمت بڑھ جائے تو بینک کو فائدہ ہو اور اگر کم ہو جائے تو نقصان برداشت کرے۔ لیکن بینک کو ہر صورت میں ایک مقررہ “منافع” حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح مشارکہ فنانسنگ میں اگر کمپنی منافع کمائے تو اسلامی بینک بھی منافع کمائے، لیکن اگر کمپنی نقصان میں ہو تو بینک بھی اس خطرے میں شریک ہو۔ بصورت دیگر یہ صرف عربی ناموں والے روایتی قرضے بن جاتے ہیں۔
پاکستانی اسلامی بینکوں کے موجودہ طریقہ کار میں تجارت پر مبنی اسلامی بینکاری کے فوائد ختم ہو جاتے ہیں اور بینکوں کو ایسی کمپنیوں کو قرض دینے کی ترغیب نہیں ملتی جن کے پاس بہترین خیالات اور مصنوعات موجود ہوں۔ اگر منافع کی شرح بالکل سود کی شرح کے برابر مقرر ہو تو اسلامی بینکاری کی برکت بھی باقی نہیں رہتی۔
گزشتہ سال تک اسٹیٹ بینک بینکوں کو ڈپازٹرز کو کم از کم منافع دینے کا پابند کرتا تھا۔ اسلامی بینکوں نے اعتراض کیا کہ مقررہ منافع دینا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ لیکن یہی بینک اپنے صارفین سے اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ کی بنیاد پر مقررہ منافع وصول کرنے میں کوئی مسئلہ محسوس نہیں کرتے۔ اس تضاد کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی بینکوں کے کھاتہ داروں کو روایتی بینکوں کے مقابلے میں کم منافع ملا، جبکہ اسلامی بینک خود زیادہ منافع کماتے رہے۔ اس طرح اسلامی بینکوں نے اچھا مسلمان بننے کی قیمت لوگوں پر بڑھا دی۔ آج بھی اسلامی بینک اپنے ڈپازٹرز کو کم منافع دیتے ہیں، جو استحصال سے متعلق اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
جب قرض لینے والا سود یا منافع کی ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے تو روایتی اور اسلامی دونوں بینک جرمانہ وصول کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ روایتی بینک اس رقم کو اپنے پاس رکھتے ہیں جبکہ اسلامی بینک اسے خیرات کر دیتے ہیں۔
یہ کہنا پڑتا ہے کہ اسلامی اور روایتی بینکوں کے درمیان فرق زیادہ تر ناموں کا ہے، حقیقت کا نہیں۔ بینکار اور ماہرین معاشیات اس بات سے واقف ہیں لیکن امید رکھتے ہیں کہ اسلامی بینک وقت کے ساتھ حقیقی اسلامی بینکاری کے قریب آ جائیں گے۔ بدقسمتی سے کئی دہائیوں بعد بھی ایسی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی بینک زیادہ منافع کما رہے ہیں اور اپنے آرام دہ کاروباری ماڈل کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔
اسلامی بینکار اکثر گائے کے گوشت کی مثال دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر گائے کو اسلامی طریقے سے ذبح نہ کیا جائے تو گوشت حلال نہیں ہوتا، لیکن صحیح طریقے سے ذبح کیا جائے تو وہی گوشت حلال ہو جاتا ہے۔ یہ مثال بظاہر مؤثر ہے مگر یہاں موزوں نہیں، کیونکہ اسلام نے گائے کا گوشت کھانے کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ صرف ذبح کا طریقہ بتایا ہے۔ سود کی ممانعت شراب کی ممانعت کی طرح ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ شراب چائے کے کپ میں پی جائے یا شراب کے گلاس میں، وہ حرام ہی رہے گی۔ اسی طرح اسلام میں تجارت جائز ہے، لیکن سود حرام ہے، چاہے اسے عربی نام ہی کیوں نہ دے دیے جائیں۔
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اسلامی بینکاری کو اسلام کے بنیادی اصولوں یعنی متغیر منافع اور خطرے میں شراکت داری کے زیادہ قریب لایا جائے۔
مصنف سابق وزیر خزانہ ہیں۔یہ مضمون پہلے ڈان اخبار میں 6 جون کو شائع ہوا تھا۔