وفاقی وزیرخزانہ محمد اور نگزیب نے قومی اسمبلی میں 18 ہزار ارب روپے سے زیادہ کا بجٹ پیش کردیا۔بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کی آمدنی کے 4 سلیبسز پر ریلیف فراہم کرتے ہوئے ٹیکس کم اور سرچارج ختم کردیا گیا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ بھی کیا گیا ہے جبکہ پینشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز زیرغور ہے۔
وزیرخزانہ کے مطابق تنخواہ دار بائیس (22) سے بتیس (32) لاکھ روپے کے درمیان سالانہ کماتے ہیں ان کے ٹیکس کی شرح (23) فیصد سے کم کر کے (20) فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ بتیس (32) سے اکتالیس (41) لاکھ روپے کے درمیان آمدن والے تنخواہ داروں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
وزیرخزانہ نےمزید بتایا کہ اکتالیس (41) سے چھپن (56) لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کی تجویز ہے، اسی طرح چھپن (56) لاکھ سے ستر (70) لاکھ روپے تک تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔بجٹ میں فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔