- کراچی سے ایف بی آر کی 80 فیصد ٹیکس وصولیاں ہونے کا دعویٰ۔
- او زیڈ ٹی کی مد میں کراچی کے 3 ہزار ارب روپے کے حصے کا مطالبہ۔
- گرین لائن کے لیے 6 ارب روپے درکار، بجٹ میں صرف 1.6 ارب روپے مختص۔
- کے فور منصوبے کے لیے 40 ارب کے بجائے 10 ارب روپے رکھے گئے۔
- کراچی میں پانی کی قلت اور دھابیجی پائپ لائن کی بار بار خرابی پر تشویش۔
- اردو یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں اور جامعہ کراچی کے پی ایچ ڈی وظائف کا مسئلہ اٹھایا۔
- واٹر اینڈ سیوریج نظام کو مقامی سطح پر منتقل کرنے کا مطالبہ۔
- ہر ٹاؤن کے لیے 5 ارب روپے ہنگامی فنڈ مختص کرنے کا مطالبہ۔
- بنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شفافیت پر سوالات اٹھائے۔
- شہر میں کچرے، نامکمل ترقیاتی منصوبوں اور تباہ حال انفراسٹرکچر پر تنقید۔
کراچی: قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو کراچی کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اسے اس کا حقیقی حصہ نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جمع کیے گئے ٹیکسوں کا تقریباً 80 فیصد کراچی سے حاصل ہوا، جبکہ کراچی وفاقی حکومت کو مجموعی ٹیکس آمدن کا 62 فیصد فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود او زیڈ ٹی (OZT) کی مد میں کراچی کا تقریباً 3 ہزار ارب روپے کا حصہ نہیں دیا گیا۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کراچی کے لیے گرین لائن منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے 6 ارب روپے درکار ہیں لیکن بجٹ میں صرف 1.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح کے فور منصوبے کے لیے 40 ارب روپے کے بجائے صرف 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جو شہر کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کراچی کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر ایک ایسا بجٹ پیش کیا ہے جو کراچی کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا چھٹا بجٹ ہے لیکن شہر کے بنیادی مسائل بدستور موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی شدید پانی کے بحران کا شکار ہے جبکہ دھابیجی پائپ لائن بار بار پھٹنے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول شہر کے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، گرین اور یلو لائن منصوبے تاحال مکمل نہیں ہوسکے جبکہ شہر کا انفراسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ہے اور جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی طلبہ کو وظائف نہیں دیے جا رہے اور وفاقی سطح پر جامعہ کراچی کے ساتھ بھی مناسب رویہ اختیار نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر اینڈ سیوریج کے نظام کو مقامی حکومتوں کے ماتحت کیا جائے اور ہنگامی نوعیت کے ترقیاتی کام بھی شفاف طریقے سے ٹینڈر کے ذریعے انجام دیے جائیں۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے بنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص 815 ارب روپے کے بجٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پروگرام میں کرپشن ہو رہی ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہر ٹاؤن کے لیے 5 ارب روپے کی ہنگامی فنڈنگ مختص کی جائے تاکہ مقامی سطح پر مسائل فوری طور پر حل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے زیر انتظام ٹاؤنز محدود وسائل کے باوجود عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں اور کم فنڈز میں ترقیاتی کاموں کا جاری رہنا کسی معجزے سے کم نہیں۔