loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
16-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
16-Jul-2026
29-Muharram-1448
کراچی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

کراچی، جو وفاقی آمدنی کا 60 فیصد اور سندھ کی صوبائی آمدنی کا 80 فیصد فراہم کرتا ہے، وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کی جانب سے سوتیلی ماں جیسا سلوک برداشت کر رہا ہے۔

چند دہائیاں قبل تک کراچی کو پاکستان کا تاج کہا جاتا تھا، مگر اب صورتحال مختلف ہے۔ دنیا کے اس عظیم شہر، جس کی آبادی تقریباً چار کروڑ ہے، کو متعدد انسان ساختہ بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان میں شدید پانی کا بحران، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، بڑھتا ہوا جرائم، اور غیر قانونی آبادیوں کا پھیلاؤ شامل ہیں۔ بجلی کی قلت، کچرے کی ناقص صفائی اور تباہ حال تعلیمی نظام بھی کراچی کے شہریوں کے بڑے مسائل ہیں۔

کراچی اگست 1947 سے 1960 تک پاکستان کا دارالحکومت رہا، لیکن صدر جنرل ایوب خان کے دور میں دارالحکومت پہلے راولپنڈی اور بعد ازاں نئے تعمیر شدہ شہر اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔

کراچی نہ صرف وفاقی دارالحکومت تھا بلکہ پاکستان کا صنعتی، تجارتی اور کاروباری مرکز بھی تھا۔ ملک کے مختلف حصوں سے لوگ روزگار کی تلاش میں یہاں آ کر آباد ہوئے اور یوں کراچی ایک کثیر الثقافتی شہر بن گیا۔ اس وقت مغربی پاکستان کی واحد بندرگاہ ہونے کے باعث کراچی پاکستان کا بین الاقوامی مرکز بھی بن کر ابھرا۔

تاہم کراچی کے زوال کا آغاز دارالحکومت کی منتقلی سے نہیں ہوا۔ اس کی اصل کہانی دسمبر 1971 میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے قیام کے بعد شروع ہوئی۔ شہری و دیہی تقسیم، کوٹہ سسٹم، لسانی فسادات اور سندھ کے اردو بولنے والے طبقے کے ساتھ ملازمتوں اور تعلیم میں امتیازی سلوک نے محرومی کے احساس کو مزید گہرا کیا۔

خصوصاً گزشتہ 18 برسوں سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران پانی، انفراسٹرکچر، بجلی اور کچرے کے مسائل مزید سنگین ہوئے ہیں۔ بااثر عناصر کی سرپرستی میں غیر قانونی بستیاں قائم ہوئیں اور جرائم میں اضافہ ہوا جس نے کراچی کے بحران کو مزید بڑھا دیا۔

البتہ صرف پیپلز پارٹی کو کراچی کے مسائل کا ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم، دیگر سیاسی جماعتیں اور مختلف فوجی حکومتیں بھی اس صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔

کراچی، جو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں دونوں کی بے توجہی کا شکار ہے۔ اگر 2008 کے بعد وفاق سے ملنے والے کھربوں روپے کے باوجود کے-4 واٹر سپلائی منصوبہ، ریڈ لائن بس منصوبہ، جدید انفراسٹرکچر اور کچرے کے انتظام کے منصوبے مکمل نہ ہو سکے تو یہ بدعنوانی، نااہلی اور اقربا پروری کی واضح مثال ہے۔

کراچی کے بحران صرف ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی تک محدود نہیں۔ حال ہی میں جامعہ کراچی میں ہونے والے احتجاج بھی اس کی ایک مثال ہیں۔جامعہ کراچی کے تقریباً 50 ہزار طلبہ 100 دن سے زائد عرصے سے جاری اس احتجاج سے متاثر ہوئے، جو اساتذہ، افسران اور ملازمین نے ہاؤس رینٹ، شام کی کلاسوں کے معاوضے اور ریٹائرڈ اساتذہ کے واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف شروع کیا ہے۔ پاکستان کی دیگر سرکاری جامعات کی طرح جامعہ کراچی بھی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس پر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا قرض چڑھ چکا ہے۔

کوئی سمجھنے کو تیار نہیں کہ جامعہ کراچی کا مسئلہ کراچی کا مسئلہ ہے ۔

کراچی کے بحران صرف ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی تک محدود نہیں۔ حال ہی میں جامعہ کراچی میں ہونے والے احتجاج بھی اس کی ایک مثال ہیں۔جامعہ کراچی کے تقریباً 50 ہزار طلبہ 100 دن سے زائد عرصے سے جاری اس احتجاج سے متاثر ہوئے، جو اساتذہ، افسران اور ملازمین نے ہاؤس رینٹ، شام کی کلاسوں کے معاوضے اور ریٹائرڈ اساتذہ کے واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف شروع کیا ہے۔ پاکستان کی دیگر سرکاری جامعات کی طرح جامعہ کراچی بھی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس پر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا قرض چڑھ چکا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ پیپلز پارٹی اور نہ ہی ایم کیو ایم نے جامعہ کراچی کے ملازمین کے مطالبات کی حمایت کی۔ سندھ حکومت اور وفاقی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والی جماعتوں کی یہ بے حسی ظاہر کرتی ہے کہ انہیں ملک کی سب سے بڑی جامعہ کے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں۔ نہ سندھ اسمبلی، نہ قومی اسمبلی اور نہ ہی سینیٹ میں اس بحران پر کوئی سنجیدہ بحث ہوئی۔

کراچی میں وسائل کی کمی نہیں، بلکہ مسئلہ سیاسی عزم اور ارادے کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چار کروڑ آبادی والا یہ شہر مسلسل انسان ساختہ بحرانوں کا شکار ہے۔جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے کراچی کے عوام کے مسائل، پانی کی قلت اور خراب انفراسٹرکچر کے خلاف مسلسل احتجاج کیا ہے۔

کراچی کے بحرانوں کا حل کیا ہے؟ ایک ایسا شہر جو کبھی پاکستان کی چہرہ تھا اب یہ چہرہ منہ چھپائےہوئے۔ ہے، آج زوال اور تباہی کا شکار کیوں ہے؟اس مسئلے کو تین زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے

مافیاز کا غلبہ:

کراچی میں مختلف مافیاز بااثر شخصیات کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔مثال کے طور پر کراچی کے شہری پانی حاصل کرنے کے لیے ہر سال 30 ارب روپے سے زیادہ واٹر ٹینکر مافیا کو ادا کرتے ہیں۔ شہر میں پانی کی طلب اور رسد کے درمیان 50 فیصد سے زیادہ کا فرق موجود ہے۔کراچی کو روزانہ 900 ملین گیلن پانی درکار ہے جبکہ صرف 450 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ کے-4 منصوبہ، جو روزانہ 350 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، گزشتہ دو دہائیوں سے تعطل کا شکار ہے۔

اس منصوبے کی لاگت 2005 میں 15 ارب روپے تھی جو 2026 تک بڑھ کر 150 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ نتیجتاً شہری پانی کے حصول کے لیے ہر سال 30 ارب روپے سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔واٹر ٹینکر مافیا کے ساتھ ساتھ لینڈ مافیا، بجلی مافیا اور تعمیراتی مافیا بھی سرگرم ہیں، جنہوں نے نامکمل ترقیاتی منصوبوں سے اربوں روپے کمائے ہیں۔

ملکیت اور ذمہ داری کا فقدان:

نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت کراچی کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے۔ بلدیاتی حکومت بھی قانونی حیثیت اور اعتماد کے بحران کا شکار ہے کیونکہ اپوزیشن شروع سے ہی انتخابی دھاندلی کے الزامات کے باعث اسے تسلیم نہیں کرتی۔کراچی، جو ملک کی آمدنی میں سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے، ان لوگوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے جو شہر کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔

کراچی کو ایک خودمختار شہر ریاست بنانا

کراچی کے مسائل کا واحد مؤثر حل یہ ہے کہ اسے صوبائی حکومت سے الگ ایک خودمختار انتظامی اکائی یا “سٹی اسٹیٹ” کا درجہ دیا جائے، جسے منتخب نمائندے چلائیں اور جس کے پاس منصوبہ بندی، وژن اور دیانت داری موجود ہو۔اگر کراچی کو صوبائی حیثیت یا خصوصی خودمختاری دی جائے تو اسے اپنے وسائل کے ذریعے معاملات چلانے کا اختیار حاصل ہوگا اور وہ صوبائی و وفاقی حکومتوں پر انحصار سے آزاد ہو سکے گا۔

وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ ساز کراچی کو خودمختار خصوصیات کے حامل شہر کا درجہ دینے پر غور کریں، ورنہ یہ شہر مسلسل بحران، بدانتظامی اور انتشار کا شکار رہے گا۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کی انسان ساختہ تباہیاں اگر اسی طرح جاری رہیں تو پاکستان کا یہ “تاج کا ہیرا” مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے۔

یہ مضمون فرائیڈے ٹائم میں 10 جون کا شائع ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر مونس احمر ،سابق ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز، جامعہ کراچی

One Response

  1. THINGS ARE AS THEY ARE BECAUSE THEY COULD NOT BE OTHERWISE. THE Deteriorating OF GOVERNESS IS WILFULLY Contemplated . Ayoub khan, ZA Bhutto and there after their successors woefully not only neglected in developing infrastructure simultaneously with increase in population and expansion of commerce and industry but keep on draining resources on the pretext that Karachi was initially given, in their opinion, more depriving interior Sindh. Hence illiterate Small minds were pored to restrict planned development and inject corruption to the power 49 , founding mafias to loot, Bhatta, Ibnulwaqti, Aafiaatpasandi, Maslehatandeshi and dacoity as fashioned by feudal lords.

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں