loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
16-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
16-Jul-2026
29-Muharram-1448

حکومت سندھ نے وفاقی حکومت سے این ایف سی حصے کے تحفظ کی ضمانت حاصل کرلی۔

نمائندہ خصوصی دو خبر وقاص باقر کی رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ نے قومی اسٹریٹجک ضروریات اور قومی سلامتی سے متعلق مالی تقاضوں کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بعد از منظوری دے دی ہے۔ حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ معاہدے کے دوران ایسے متعدد حفاظتی اقدامات اور ضمانتیں حاصل کی گئی ہیں جن کے ذریعے صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی مفادات کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

 11 جون 2026 کو بذریعہ سرکولیشن جاری ہونے والی کابینہ سمری کے مطابق سیکریٹری خزانہ نے صوبائی کابینہ کو آگاہ کیا کہ ملک کو درپیش قومی سلامتی کے چیلنجز اور بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک ضروریات کے پیش نظر وفاقی حکومت کو اضافی مالی وسائل درکار ہیں جس کے لیے صوبائی حکومتوں سے باہمی اتفاق رائے کے تحت تعاون طلب کیا گیا۔

سمری کے مطابق حکومت سندھ نے وفاقی حکومت کے ساتھ متعدد اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے اور واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا مالی تعاون صوبے کے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت حاصل آئینی حقوق، مالی استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی پر منفی اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔دستاویز کے مطابق 9 جون 2026 کو وزارت خزانہ پاکستان اور محکمہ خزانہ سندھ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس پر حکومت سندھ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایات پر سیکریٹری خزانہ نے دستخط کیے۔

سمری میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی سب سے اہم شق سندھ کے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت آئینی حصے کا مکمل تحفظ ہے۔ معاہدے کے تحت سندھ کا حصہ آئینی طریقہ کار کے مطابق ہی طے اور منتقل کیا جائے گا اور قابل تقسیم قومی محاصل  میں صوبے کے حصے کے تعین کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

حکومت سندھ نے مالی سال 2026-27 کے لیے 13.35 کھرب روپے کی کم از کم وفاقی ریونیو اسائنمنٹ کی ضمانت بھی حاصل کی ہے۔ اس کے تحت سندھ کے حصے کو معاہدے کے ضمیمہ اے میں محفوظ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی محصولات میں کمی کی صورت میں اس کا مالی بوجھ سندھ پر منتقل نہیں ہوگا بلکہ اس کا خطرہ وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔

سمری کے مطابق اگر وفاقی محصولات 15.264 کھرب روپے کے تخمینے سے تجاوز کرتے ہیں تو اضافی آمدن بھی این ایف سی فارمولے کے مطابق تقسیم ہوگی اور سندھ اپنا مکمل آئینی حصہ وصول کرے گا۔ اس اضافی آمدن پر صوبے کو وفاق کو کوئی اضافی ادائیگی یا گرانٹ نہیں دینا ہوگی۔

دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت سندھ پر کوئی غیر معینہ یا مستقل مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔ مستقبل میں اگر طے شدہ فریم ورک سے ہٹ کر مزید قومی ضروریات پیدا ہوتی ہیں تو ان کا انتظام وفاقی حکومت اپنے وسائل سے کرے گی اور سندھ کی ذمہ داری یکطرفہ طور پر نہیں بڑھائی جا سکے گی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ این ایف سی کے تحت موجودہ پندرہ روزہ فنڈز منتقلی کا نظام برقرار رہے گا جبکہ شفافیت، احتساب اور بروقت مالی ایڈجسٹمنٹ کے لیے سہ ماہی مصالحتی نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

سمری میں پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 164 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کو ایسے معاملات کے لیے گرانٹ دینے کا اختیار حاصل ہے جو اس کے قانون سازی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، لہٰذا قومی اسٹریٹجک ضروریات کے لیے یہ تعاون آئینی تقاضوں کے مطابق ہے۔

دستاویز کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے سندھ نے آئندہ تین برس کے لیے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے آئینی حصے کے تحفظ، وفاقی ریونیو میں کمی سے بچاؤ، اضافی محصولات میں مکمل آئینی حصہ، شفاف مالیاتی نگرانی اور غیر محدود مالی ذمہ داریوں سے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔

سندھ  کابینہ نے  9 جون 2026 کو حکومت پاکستان اور حکومت سندھ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بذریعہ سرکولیشن بعد از منظوری دے دی۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں