loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

آج فیفا ورلڈ کپ کو شروع ہوئے ایک ہفتہ گرچکا ہے۔  ابتدا سے ہی کھلاڑیوں کی تصاویر سوشل میڈیا چھائی ہوئی تھین ۔ کل سے میسی کی خبریں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں ۔

یقینا ہم سب نے ہی فٹ بال کھلاڑیوں کے جسم پر ٹیٹو دیکھے ہوں گے ۔یہ ایک نیا چلن ہے اور نوجوانوں میںکچھ ٹرینڈی بھی لگتا ہے۔ آپ کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے بوسٹن کالج کے سماجیات کے پروفیسر ، گیستاو میریلو کی فٹ بال کھلاڑیوں کے جسموں پر موجود ٹیٹو کی دلچسپ تحریر شامل کر رہے ہیں ۔ 

یہ ہم جانتے ہی ہیں کہ اب جسمانی آرٹ یا ٹیٹو بین الاقوامی فٹبال کھلاڑیوںمیں بھی عام ہیں، اگرچہ اس کی شرح مختلف خطوں کے کھلاڑیوں  میں مختلف ہو سکتی ہے۔ 2018 ورلڈ کپ میں شریک کھلاڑیوں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، لاطینی امریکی کھلاڑی  نے اپنے جسموں پرسب سے زیادہ ٹیٹو بنوائے  تھے، اس کے بعد اوشیانا اور یورپ کے کھلاڑیوں کا نمبر تھا۔ جبکہ افریقی اور ایشیائی کھلاڑیوں ٹیٹو سے کم رغبت دیکھائی تھی ۔

میں 2018 سے ٹیٹوز اور ان کے روحانی و مذہبی کردار پر تحقیق کر رہا ہوں۔ ٹیٹو وقت اور پیسے کی سرمایہ کاری ہوتے ہیں اور عام طور پر کسی شخص کی زندگی کی اہم چیز کی علامت ہوتے ہیں۔ لیکن پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے ان کا مطلب مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

یہ کھلاڑی ایک ایسے منظم ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں ان کے جسم اور رویے پر سخت کنٹرول ہوتا ہے۔ ایک کھلاڑی بغیر سوچے سمجھے سفر، ورزش یا چھٹیاں نہیں لے سکتا کیونکہ اسے اسپانسرز اور معاہدوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر ورلڈ کپ کھلاڑیوں کے سوشل میڈیا پر بھی اسپانسرشپ کی پابندیاں ہوتی ہیں۔

اس صورتحال میں ٹیٹو ذاتی آزادی کے چند مواقع میں سے ایک ہیں۔ ہماری تحقیق کے مطابق، جو کھلاڑی ٹیٹو بنواتے ہیں وہ اپنے لیے اہم اور مقدس چیزوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

ارجنٹائن کے کھلاڑی روڈریگو ڈی پال اور لیونل میسی 2022 ورلڈ کپ کے دوران اپنے ٹیٹو کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

آئیں ان کھلاڑیوں کے ٹیٹوز کو ڈی کوڈ کریں ۔

سماجی ماہرین سیم بیلکن اور ڈیل شیپٹک کے مطابق ٹیٹو کھلاڑیوں کے لیے انسانی جذبات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہیں، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں انہیں ایک “پروڈکٹ” سمجھا جاتا ہے۔ ٹیٹو ایک  طرح کاایسا اظہار ہے جوکھلاڑی اور لوگ چاہتے ہی ان کی پہچان بنے ۔ لوگ انہیں سمجھیں ۔ ٹیٹوزکے ذریعے کھلاڑی اپنے احساسات ظاہر کرتے ہیں۔

ہم نے ارجنٹائن کی 2022 ورلڈ کپ فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کے ٹیٹو کا تجزیہ کیا۔ان کے  26 میں سے 20 کھلاڑیوں کے جسم پر مجموعی طور پر 226 ٹیٹو تھے۔تحقیق میں کھلاڑیوں کی تصاویر، ٹیٹو ڈیزائن، ان کی جگہ اور انٹرویوز شامل تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے ٹیٹو ان کی زندگی اور ثقافت سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

زیادہ تر کھلاڑیوں نے اپنے مذہبی عقائد کو ٹیٹو کے ذریعے ظاہر کیا۔ 75 فیصد کھلاڑیوں کے ٹیٹو میں کیتھولک مذہب سے جڑی علامات تھیں، جیسے حضرت مریم، حضرت عیسیٰ، بزرگ اولیاء، کبوتر (روح القدس کی علامت) اور چرچ۔

کچھ کھلاڑیوں کے ٹیٹو میں بدھ مت کی علامات، لوک عقائد، اور روحانی اشیا بھی شامل تھیں۔ ایک کھلاڑی کے جسم پر ڈریم کیچر کا ٹیٹو تھا، جبکہ ایک نے “انرجیا” (توانائی) لکھوا رکھا تھا۔اسی طرح 75 فیصد کھلاڑیوں کے ٹیٹو ان کی پیشہ ورانہ کامیابیوں سے متعلق تھے، جیسے ٹرافیاں، جرسی نمبر اور کارکردگی کی علامتیں۔

80 فیصد کھلاڑیوں کے ٹیٹو محبت اور ذاتی تعلقات کی نمائندگی کرتے تھے، جیسے بچوں کی پیدائش کی تاریخیں، شریک حیات کے نام یا ان کی آنکھوں اور ہونٹوں کی تصویریں۔خاندانی تعلقات بھی اہم تھے—والدین، دادا دادی اور پالتو جانوروں کے ٹیٹو بھی دیکھے گئے۔ٹیٹو کی جگہ بھی اہم تھی: 60 فیصد ٹیٹو بازوؤں اور سر پر تھے تاکہ کھیل کے دوران نظر آئیں۔مذہبی ٹیٹو عموماً کندھے، بازو یا ٹانگوں پر ہوتے ہیں، جبکہ پیشہ ورانہ ٹیٹو غالباً غالب ٹانگ پر بنائے جاتے ہیں۔

تمام ٹیٹو ایک جیسے نہیں

کچھ محققین نے فٹبال اور سیاست کے تعلق پر بھی کام کیا ہے۔ مثال کے طور پر ڈیاگو میراڈونا نے چی گویرا اور فیڈل کاسترو کے ٹیٹو بنوائے تھے، جو ان کے سیاسی خیالات کو ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ کھلاڑیوں میں ایسے سیاسی ٹیٹو کم دیکھے گئے۔خواتین کھلاڑیوں کو زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارجنٹائن کی خواتین ٹیم کی کپتان یمیلا روڈریگز کو کرسٹیانو رونالڈو کے ٹیٹو کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا،

۔یہ ورلڈ کپ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم کھلاڑیوں کے جسموں پر بنے ٹیٹوز کے ذریعے ان کی اقدار، عقائد اور جذبات کو سمجھ سکیں۔

یہ مضمون پہلے دی کنورسیشن میں شائع ہوچکا ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں