وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے، تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال وفاق کی جانب سے سندھ کو 52 ارب روپے کی گرانٹ موصول ہوئی جو ایک تاریخی سطح کی مالی معاونت ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل کبھی بھی اتنی بڑی رقم بطور گرانٹ سندھ کو نہیں ملی، جو صوبے کے مالی معاملات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم ابھی تک کسی نے دیکھی نہیں ہے، اور اس حوالے سے جو بھی باتیں کی جا رہی ہیں وہ قبل از وقت ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر 28ویں ترمیم منظور کرانی ہے تو پیپلزپارٹی کو اعتماد میں لیا جائے اور اسے مکمل طور پر آگاہ کیا جائے۔
مراد علی شاہ نے سیاسی لہجے میں کہا کہ چاہے ترمیم ڈنڈے سے منظور کرانی ہو یا پیار سے، پیپلزپارٹی کو ضرور بتایا جائے گا اور اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت کسی دباؤ یا زبردستی کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی اور ہر آئینی و سیاسی عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ جمہوری عمل اور پارلیمانی روایات کی پاسداری کرتی آئی ہے، اور آئندہ بھی کسی بھی آئینی ترمیم کے معاملے پر اپنا مؤقف کھل کر پیش کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت نہ صرف اپنے صوبے کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی بلکہ وفاق کے ساتھ تعلقات کو بھی آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے آگے بڑھائے گی۔
I’m interested to see how the dialogue around the 28th amendment continues. Do you think it will lead to any meaningful changes?