loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) اور یونیسیف کے اشتراک سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  پاکستان میں 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں جن میں 66 لاکھ سے زائد بچے خطرناک مشقت میں مصروف ہیں جو ان کی صحت، تحفظ اور مستقبل کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہے۔

این سی ایچ آر اور یونیسیف کی ‘پاکستان: چائلڈ لیبر سرویز، شواہد برائے عمل’ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں ملک بھر میں چائلڈ لیبر کے حجم، پھیلاؤ، مختلف شعبوں، خطرات اور اس کے بنیادی اسباب کی جامع تصویر پیش کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چائلڈ لیبر سب سے زیادہ پنجاب میں  ہے جہاں 60 لاکھ بچے مزدوری اورمشقت میں مصروف ہیں۔ سندھ میں 16 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 7 لاکھ 45 ہزار 155اور بلوچستان میں 2 لاکھ 1 ہزار 352 بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 15 ہزار 180 بچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غربت چائلڈ لیبر کا سب سے بڑا سبب ہے۔ چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ غریب گھرانوں اور کم تعلیم یافتہ والدین کے بچوں میں دیکھی گئی۔ لڑکے لڑکیوں کی نسبت زیادہ تعداد میں محنت و مشقت خصوصاً خطرناک کاموں میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق  بچوں سے کروائی جانے والی مزدوری کا ایک بڑا حصہ خاندانی ماحول کے اندر انجام پاتا ہے جیسے خاندانی کھیتوں، خاندانی ورکشاپس اور گھروں میں کام کرنا۔ چائلڈ لیبر کی یہ شکل روایتی لیبر انسپیکشن اور نگرانی کے نظام سے بڑی حد تک اوجھل رہتی ہے۔

رپورٹ کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ  محنت و مشقت میں مصروف بچے زیادہ تر تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔یہ بچے  طویل اوقات تک کام کرتے ہیں اور چوٹوں، بیماریوں، تھکن اور ذہنی صحت کے مسائل کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ مختلف صوبوں میں 32 سے 58 فیصد کام کرنے والے بچوں نے کام کے دوران پیش آنے والی چوٹ یا بیماری کی اطلاع دی جبکہ محنت و مشقت میں مصروف بڑی عمر کے بچوں میں سے ایک تہائی تک میں ڈپریشن جیسی علامات ظاہرہوئیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں