اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس دعوے پر حیرت اور ناراضی کا اظہار کیا کہ ‘ ٹرمپ اپنے معاملات پھر دھیان دیں”‘، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ میلونی نے جی سیون اجلاس کے دوران ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے اصرار کیا تھا.
ٹرمپ نے اطالوی نیوز چینل جی سیون کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ میلونی تصویر کے لیے بہت خواہش مند تھیں اور میلونی نے اپنے ایکس اکاونٹ میں اپنی ناراضی کا اطہار کیا ۔ انھوں نے اس میں کہا کہ “انہوں نے ان سے تصویر لینے کی درخواست کی، جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے صرف ہمدردی کی وجہ سے تصویر بنوائی۔
Io e l’Italia non imploriamo mai. pic.twitter.com/sTpKlqWB67
— Giorgia Meloni (@GiorgiaMeloni) June 19, 2026
میلونی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات مکمل طور پر من گھڑت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ “نہ میں اور نہ ہی اٹلی کسی سے منت سماجت کرتے ہیں”۔ انہوں نے ٹرمپ کے رویے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک کے ساتھ ایسا برتاؤ مناسب نہیں۔ اس بیان کے بعد اٹلی اور امریکا کے تعلقات میں سفارتی کشیدگی بڑھ گئی۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے ٹرمپ کے ریمارکس کو اٹلی کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے اپنا امریکا کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلے قریبی تعلقات رہے ہیں۔