امیریکاکی یونیورسٹیاں آے آئی کو ایڈاپٹ کرنے پر زور دے رہی ہیں ۔اہم سوال یہ ہے کہ اس کابڑھتا ہوئے استعمال کس قسم کے طلبہ تیار کرئے گا؟ کیا یہ چیٹ بوٹ سے ٹرینڈ طلبہ کرٹیکل تھنکنگ کرنے کا قابل ہوں گے یا وہ بس ایک ڈیٹا ورکر بن جائیں گے ۔
ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر یونیورسٹی کی زندگی کا زیادہ حصہ خودکار بنا دیا جائے تو سیکھنے،سکھانے اور رہنمائی کا وہ انسانی نظام کہاں باقی رہے گا جس پر اعلیٰ تعلیم ادارےقائم ہوتے ہیں؟
دیکھا جائے تواصل مسئلہ یہی ہے۔ طلبہ یونیورسٹی صرف ڈگری حاصل کرنے یا نصاب مکمل کرنے کے لیے نہیں جاتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں سمجھا جائے، ان کی دلچسپیوں کو فروغ دیا جائے اور دنیا میں اپنے مقام کو سمجھنے میں مدد ملے۔اگر یونیورسٹیاں یہ کام بھی اے آئی کے حوالے کر دیں، تو وہ ان تعلقات اور انسانی فیصلوں کو کمزور کر سکتی ہیں جو اعلیٰ تعلیم کو معنی دیتے ہیں۔
امریکا میں مالی مشکلات کا شکار یونیورسٹیوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اےآئی کے گرد ار کواز”سرنو تشکیل دیں”، مگرکبھی نے سوچا ہے کہ ہمارے طلبہ اے آئی کا شکار کیوں ہو رہے ہیں اور اس کا فائدہ سب سے زیادہ کون اٹھا رہا ہے۔ یقین کریں اے آئی کا بڑھتے استعمال کا فائدہ اٹھانے والی وہ کمپنیاں ہیں جو یہ ٹیکنالوجی فروخت کر رہی ہیں۔یقینا آج کے یونیورسٹی طلبہ اس پیغام کو پسند نہیں کریں گے۔رپورٹ کے مطابق ان باتوں پر امریکی یونی ورسٹی طلبہ نے احتجاج کیا، شور مچایا اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
ہم آج سمجھ سکتے ہیں کہ طلبہ کا یہ ردعمل سمجھنا مشکل نہیں۔ وہ ایسے وقت میں یونیورسٹی سے نکل رہے ہیں جب اے آئی کو صرف ایک ایسی مہارت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا جسے انہیں سیکھنا چاہیے، بلکہ ایک ایسی طاقت کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے جو ان کے آنے والے روزگار کے میدان کو بدل سکتی ہے۔یہ ہی نہیں ہمارے اپنے بچے اے آئی کا استعمال اتنا زیادہ کر رہے ہیں کہ اگر انہیں روکا جائے تو کہتے ہیں ہوم ورک میں سوال کا جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے یہ کب کہا ہے کہ اے آئی کی مدد سے نہیں کر سکتے۔
سوچیں یہ جین زی آگے چل کر کیا کریں گے ۔ یہاں مسئلہ ملازمتوں تک محدود نہیں۔ یونیورسٹیوں کو بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ خود کو اے آئی کے مطابق ڈھالیں اور اسے بجٹ کے دباؤ، انتظامی مسائل اور ملازمت دینے والوں کی ضروریات کے حل کے طور پر اپنائیں۔یعنی اس ٹیکنالوجی کا استعمال زورز بروز ترقی ہی کرئے گا۔
یہاں اصل خطرہ موجود ہے۔ “اے آئی کے دور” میں یونیورسٹیاں ٹیکنالوجی کو بغیر “کریٹیو اور کرٹیکل سوچ “کے قبول کرنے کی وجہ سے خود اپنے لیے مسئلہ پیدا کر سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ٹیکنالوجی انہیں آسان حل یعنی اے آئی کوقبول کرنےکی ترغیب دے رہے ہیں۔
سسکو، جو امریکا کی بڑی نیٹ ورکنگ اور ٹیکنالوجی کمپنی ہے۔اس کی 2025 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ “جدید سوچ رکھنے والے ادارے اے آئی کو اپنے وسائل کی کمی کے حل کے طور پر دیکھتے ہیں”۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ “اے آئی معمول کے کاموں کو خودکار بنا سکتی ہے، طلبہ کی خدمات بہتر کر سکتی ہے اور یونیورسٹیوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے چلانے میں مدد دے سکتی ہے۔”رپورٹ نے یہ بھی زور دیا کہ یونیورسٹیوں کو “اے آئی سے متعلق مہارتوں کی سپلائی چین کے طور پر اپنا کردار قبول کرنا چاہیے”، کیونکہ “طلبہ کام کی دنیا میں اے آئی کے استعمال کی توقع رکھتے ہیں اور آجر بھی اے آئی کی مہارت چاہتے ہیں۔”
اعلیٰ تعلیم کے بارے میں یہ اندازِ گفتگو بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ یونیورسٹیوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اے آئی کو صرف ایک آلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک بنیادی نظام کے طور پر دیکھیں: طلبہ کو مستقبل کے ایسے کارکن سمجھا جائے جنہیں اے آئی کی تربیت درکار ہے، عملے کے کام کو کم کیا جائے، اور اداروں کو زیادہ خودکار اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بنایا جائے۔
کئی یونیورسٹیوں نے اس سوچ کو قبول بھی کر لیا ہے۔ یونیورسٹی آف منی سوٹا، ڈارٹ ماؤتھ کالج اور سائراکیوز یونیورسٹی نے اے آئی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ 2025 میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی نے اوپن اے آئی کے ساتھ 17 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا تاکہ کمپنی کا تعلیمی چیٹ بوٹ اپنے 5 لاکھ سے زائد طلبہ اور اساتذہ کو فراہم کرے۔
کیلیفورنیا اسٹیٹ نونیورسٹی کے کئی اساتذہ اور طلبہ “اے آئی کے شاندار دعوؤں” سے مطمئن نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس معاہدے کو ایک تاریخی قدم کے طور پر پیش کیا گیا۔ اوپن اے آئی کے لیے امریکا کے سب سے بڑے پبلک یونیورسٹی نظام میں شمولیت اس بات کا ثبوت تھا کہ اے آئی کو اعلیٰ تعلیم میں بڑے پیمانے پر شامل کیا جا سکتا ہے۔
جب یونیورسٹی کے سسٹم کو اے آئی کی مدد سے آوٹ سورس کر دیا جائے ؟
کیلیفورنیا یونی ورسٹی کے لیے یہ ایک بڑی تشہیری کامیابی تھی کیونکہ دنیا کی کسی اور یونیورسٹی نے اس سطح پر اے آئی کو نہیں اپنایا تھا۔ لیکن مالی منطق زیادہ واضح نہیں۔ تقریباً 144 ملین ڈالر کی بجٹ کٹوتیوں کا سامنا کرنے کے باوجودیونی ورسٹی نے یہ معاہدہ مزید مہنگی شرائط پر جاری رکھا، جس کے تحت تین سال میں تقریباً 39 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔یہ سوال اہم ہے کہ جب یونیورسٹیاں اپنے زیادہ تر کام کو اے آئی کے ذریعے خودکار، آؤٹ سورس یا سستا بنانے لگیں گی تو کیا ہوگا؟کچھ بھی صیحح انسان اور مشین میں فرق ہے۔
کیا اب اے آئی کی مدد سے پیپر بھی چیک کئے جائیں گے؟
مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب اے آئی انتظامیہ سے نکل کر تدریس اور امتحانات تک پہنچتی ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اے آئی انتظامی بوجھ کم کر سکتی ہے، اخراجات گھٹا سکتی ہے اور مستقبل میں کلاسز بنانے، کام چیک کرنے اور مشکل تحریروں کا خلاصہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔لیکن ان دعوؤں کے ساتھ رازداری، تعصب اور جواب دہی کے خدشات بھی موجود ہیں۔
امتحانات کے بارے میں شواہد بھی تشویش پیدا کرتے ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم نے تین جدید اے آئی نظاموں کا جائزہ لیا اور پایا کہ اے آئی اکثر ایسے کاموں کو کم نمبر دیتی ہے جنہیں انسانوں نے بہترین قرار دیا، جبکہ کم معیار کے مضامین کو زیادہ نمبر دے دیتی ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ “تشخیص صرف نمبر دینے کا نظام نہیں، بلکہ تعلیمی معنی پیدا کرنے کا حصہ ہے، جہاں طلبہ خود کو اہم محسوس کرتے ہیں، معیار برقرار رہتا ہے اور اعتماد قائم رہتا ہے۔ اے آئی کا استعمال ان اقدار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔”
اے آئی کےان استعمال سے انسان تعلقات متاثر ہوں گے۔
یونیورسٹیوں کا بنیادی مقصد کبھی صرف مالی کارکردگی نہیں تھا اور نہ ہونا چاہیے۔ یہ ادارے صرف مارکیٹ کے لیے کارکن تیار کرنے کے لیے نہیں بنائے گئے تھے بلکہ ایسے باشعور شہری پیدا کرنے کے لیے بنائے گئے تھے جو دنیا کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔”اے آئی کے دور” میں یونیورسٹی کے اسی بنیادی مقصد کا دفاع کرنا ہوگا ۔ طلبہ، اساتذہ اور معاشرے سب کے لیے۔وہ ایسے نظام کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے جو انہیں طالب علم کے بجائے صرف کارکن، ڈیٹا یا صارف سمجھتا ہے۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر یونیورسٹی کی زندگی کا زیادہ حصہ خودکار بنا دیا جائے تو سیکھنے اور رہنمائی کا وہ انسانی نظام کہاں باقی رہے گا جس پر اعلیٰ تعلیم قائم ہے؟
آخر میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر یونیورسٹی کی زندگی کا زیادہ حصہ خودکار بنا دیا جائے تو سیکھنے اور رہنمائی کا وہ انسانی نظام کہاں باقی رہے گا جس پر اعلیٰ تعلیم قائم ہے؟