یورپ کے مختلف ممالک گرمی کی شدید لہر کی لپیٹ میں ہیں۔ فرانس میں گرمی کے باعث 2 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہوگئے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق چند روز سے یورپی ممالک ہیٹ وویو کی لپیٹ میں ہیں اور پیر کو درجہ حرارت بلند ترین سطح تک پہنچا۔شدید گرمی کی وجہ سے فرانس کے علاوہ دوسرے ممالک میں گرم علاقوں میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ کئی ایونٹس منسوخ کیے جانے کے علاوہ کچھ ٹرین سروسز بھی معطل کی گئی ہیں۔
فرانس میں اسکولز بند کردئیے گئے ہیں یا پھر ان کے اوقات تبدیل کیے گئے ہیں۔ لندن سمیت برطانیہ کے مختلف علاقوں میں گرمی کے باعث اسکولوں کا دورانیہ مختصر کردیا گیا ہے۔دوسری جانب ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں ماہ کے دوران گرمی مزید بھی بڑھ سکتی ہے۔
A powerful heatwave is sweeping across Europe, bringing temperatures close to 40°C and prompting widespread health warnings in Spain, Italy, and France.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 21, 2026
The soaring temperatures are also taking a severe toll on wildlife. pic.twitter.com/737M9KYuik
فرانس کے شہربورڈآکس میں درجہ حرارت 41 اعشاری نو ڈگری ریکارڈ کیا گیا جس نے پچھلے برس کے اگست کے مہینے کا ریکاڈ توڑ دیاجبکہ وسطی فرانس کے شہر پوئیٹریز میں درجہ حرارت 41 اعشاریہ دو تک پہنچا جو 1947 کے بعد اس علاقے میں پڑنے والی اب تک کی سب سے زیادہ گرمی تھی۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے اپریل میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا کہ یورپ عالمی سطح پر بڑھنے والی گرمی کے مقابلے میں تقریباً دو گنا اضافے کے ساتھ گرم ہو رہا ہے۔سخت گرمی کی وجہ سے لوگ ٹھنڈے اور تیراکی کے مقامات کا رخ کر رہے ہیں تاہم سول ڈیفنس کے ترجمان جیروم بولینگر نے خبردار کیا ہے کہ صرف انہی مقامات پر تیراکی کی جائے جہاں نگرانی کا نظام موجود ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے برس موسم گرما میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی شرح میں 172 فیصد دیکھنے میں آیا تھا کیونکہ اس وقت بھی گرمی زیادہ تھی اور لوگ ٹھنڈے مقامات کی طرف جا رہے تھے۔