وفاقی محتسب برائے انسدادِ برائے ہراسانی :نے ایک نجی ادارے کو خاتون ملازمہ کو زچگی کی چھٹیوں کے دوران نوکری سے نکالنے پر 12 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے ۔جرمانے کےساتھ ادارے کو مزید اقدامات کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
تفیصلات کے مطابق ، شکایت گزار ملازمہ اکاؤنٹنگ کے شعبے میں کام کر رہی تھی۔ اس نے وفاقی محتسب کے پاس شکایت درج کی کہ جب وہ منظور شدہ زچگی کی چھٹی پر تھی، اسے ایک فون کال کے ذریعے بتایا گیا کہ اس کی ملازمت ختم کی جا رہی ہے۔ کوئی رسمی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا، نہ ہی کوئی لکھی ہوئی اطلاع دی گئی جس میں الگ ہونے کی وجوہات بیان کی جائیں۔ ملازمہ کو محض اس بات کی اطلاع دی گئی کہ اس کا نام ملازمین کی ایک حتمی فہرست میں شامل ہے جن کی ملازمت اس کے زچگی کی چھٹیوں کی مدت ختم ہونے کے بعد ختم کر دی جائے گی۔
گواہوں کی شہادتوں اور دستاویزی شواہد کی تفصیلی جانچ کے بعد فوسپا نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ زچگی کی چھٹیوں کی مدت میں کسی خاتون کو ملازمت سے برخاست کرنا درست نہیں ۔ یہ عمل قانون کے تحت صنفی تفریق اور نفسیاتی طور پر ہراساں کرنے کے برابر ہے۔ وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ پریگنیسی ، ولادت، میٹرنٹی لیو، اور بعد میں صحت یابی کی حالتیں خواتین کے لیے آسان مرحلہ نہیں ۔ اور ان حالتوں سے منسلک کوئی بھی نقصان دہ سلوک مکمل طور پر ممنوع ہے۔
انکوائری سے یہ بھی واضح ہوا کہ ادارے کے ہاتھوں صنفی امتیاز صرف ملازمت ختم کرنے کی اطلاع تک محدود نہیں تھا ۔ زچگی کی چھٹیوں سے واپسی کے بعد، ملازمہ کے سفر کی سہولیات سے متعلق مسائل، جو اس کی صحت یابی کے لیے ضروری تھے۔ اسے حل نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ادارےکو اس کی طبی حالت کی معلومات تھی۔ علاوہ ازیں، بچے کی دیکھ بھال سے متعلق دستاویزات میں تاخیر اور واپسی سے فوری بعد سالانہ تنخواہ میں اضافہ کی بے وجہ قطع کو صنفی تفریق کے ایک عمومی نمونے کا حصہ قرار دیا گیا۔
وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خاتون کا حاملہ ہونا اور نئی ماؤں کے لئے ایک نئی ذمہ داری ہوتی ہے اور انہیں محفوظ، عزت بخش اور بغیر تفریق کے کام کی جگہ فراہم ہونا چاہیے۔ فیصلے میں ادارے کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آئندہ میٹرنٹی لیو والی ملازمہ سے متعلق تمام رابطہ کاری رسمی لکھی ہوئی شکل میں کرگا۔ ادارے کو اپنے تمام ملازمیوں کے درمیان پریگنیسی سے متعلق تفریق، میٹرنٹی تحفظ کے حقوق، اور قابل ہراساں کرنے سے متعلق لازمی شعور و احساس دینا ہوگا ۔
امید ہے کہ وفاقی محتسب کے اس فیصلے سے پاکستان میں کام کرنے والی خواتین کے کام کرنے کی جگہوں پر قانونی تحفظ میں اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ حاملہ ہونا، ماں بننے، یا میٹرنٹی کے حوالے سے کام سے نکالنا یا صنفی تفریق درست نہیں ۔