لندن میں ہاکی پرو لیگ کے دوران پاکستان کے قومی پرچم کے ساتھ پیش آنے والی غلطی پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے باضابطہ معذرت کر لی ہے۔
یہ واقعہ 23 جون کو لندن کے لی ویلی ہاکی اینڈ ٹینس سینٹر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے ہاکی پرو لیگ میچ سے قبل قومی ترانوں اور پرچم کی رونمائی کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی قومی ترانوں کے لیے میدان میں موجود تھے، اس دوران پاکستان کا جو پرچم دکھایا گیا اس میں قومی پرچم کا سفید حصہ موجود نہیں تھا اور صرف سبز رنگ نظر آ رہا تھا۔
عالمی مقابلے میں قومی پرچم کی غلط نمائش پر پاکستان کے شائقین، ہاکی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ صحافی حسیب اسلم نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان اتنے ہاکی میچز کھیل چکا ہے ۔اولمپکس اور چیمپین ٹرافی سے لے کر ورلڈ کپ تک ،اتنے اعزازات کے باوجود انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن پاکستان کا درست پرچم پیش نہیں کر سکی ؟
For a nation that has won multiple World Cups and Olympic gold medals and helped shape the history of international hockey, it is disappointing that @FIH_Hockey still failed to display #Pakistan’s correct national flag.
— Haseeb Arslan (@HaseebarslanUK) June 23, 2026
Such an error raises serious questions about attention to… pic.twitter.com/sMQan530x3
واقعے کے بعد ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ کے ڈائریکٹر ہلیری ایٹکنسن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کو خط لکھ کر معذرت کی۔ ایف آئی ایچ نے کہا کہ قومی پرچم کسی بھی ٹیم کی شناخت، فخر اور نمائندگی کی علامت ہوتا ہے اور اس غلطی پر ادارہ معذرت خواہ ہے۔
ایف آئی ایچ نے اس غلطی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیش نہ آئے۔ فیڈریشن نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ تمام ٹیموں کے قومی نشان اور علامتوں کے احترام کو یقینی بنایا جائے ۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ میدان میں موجود پاکستانی حکام اور ٹیم انتظامیہ نے تقریب سے پہلے پرچم کی جانچ کیوں نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح کے ایونٹس میں قومی پرچم جیسے حساس معاملے پر خصوصی احتیاط ضروری ہوتی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ بھی توجہ کا مرکز تھا۔ میچ میں بھارت نے پاکستان کو 4-3 سے شکست دی، جبکہ پاکستان کی پرو لیگ میں مسلسل شکستوں کا سلسلہ جاری رہا۔