کراچی: سندھ اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے تمام مراحل مکمل کرتے ہوئے سندھ فنانس بل بھی منظور کر لیا ہے
فنانس بل کے ذریعے مختلف ٹیکسوں کی شرح، ٹیکس نیٹ اور ٹیکس قوانین میں متعدد اہم ترامیم کی گئی ہیں، جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
فنانس بل پر بحث کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن سندھ اسمبلی صابر قائم خانی نے زرعی شعبے پر سپر ٹیکس کی شرح سے متعلق ترمیم پیش کرتے ہوئے تجویز دی کہ سالانہ 5 کروڑ روپے زرعی آمدن پر 8 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چھوٹے کسانوں کو تحفظ دیا جائے جبکہ بڑے زمینداروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تاکہ زرعی شعبے میں ٹیکس کا نظام زیادہ منصفانہ بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپوزیشن کی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بھی زرعی آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت سے وابستہ بیشتر افراد کی آمدن اتنْی زیادہ نہیں ہوتی کہ ان پر اضافی ٹیکس عائد کیا جائے۔ بعد ازاں ایوان نے اپوزیشن کی ترمیم مسترد کر دی۔
منظور کیے گئے سندھ فنانس بل کے مطابق 50 کروڑ روپے سے کم سالانہ زرعی آمدن پر سپر ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد زرعی شعبے کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانا ہے۔
فنانس بل میں سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ میں بھی متعدد ترامیم کی گئی ہیں۔ رجسٹریشن منسوخ کرنے کی مدت تین ماہ سے بڑھا کر چھ ماہ کرنے کی تجویز منظور کی گئی، جبکہ ٹیکس دہندگان کی معلومات کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے کی قانونی ضمانت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے جعلی انوائسنگ، جعلی بلنگ یا جعلی انوائسنگ سافٹ ویئر بنانے یا استعمال کرنے والوں پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیکس سے متعلق کسی بھی انکوائری کو 60 دن کے اندر مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
فنانس ایکٹ کے تحت کاروباری مراکز میں ٹیکس سے متعلق آگاہی نوٹس اور ضروری معلومات نمایاں طور پر آویزاں کرنا بھی لازمی ہوگا تاکہ ٹیکس قوانین سے متعلق آگاہی میں اضافہ کیا جا سکے۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے تازہ پھل، سبزیاں اور غیر پراسیس شدہ اناج کو ٹیکس استثنیٰ کے دائرے میں برقرار رکھا ہے۔ اسی طرح سالانہ پانچ لاکھ روپے سے کم فیس وصول کرنے والے تعلیمی اداروں کو بھی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔
دوسری جانب ریڈی مکس کنکریٹ، ڈریجنگ اور مٹی و ریت کی صفائی جیسی خدمات پر 8 فیصد سندھ سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ پراپرٹی ڈویلپرز کے لیے فکسڈ ٹیکس کا نظام فی مربع گز کے حساب سے نافذ کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق سندھ فنانس ایکٹ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور اس کے ذریعے ٹیکس نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور دستاویزی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
فنانس بل اور بجٹ کی منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد اسپیکر سندھ اسمبلی نے اجلاس تاحکم ثانی برخاست کر دیا۔