ایران جنگ کے تناظر میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، جہاں قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے دوحہ میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جاری معاہدے پر پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، تاہم قطر کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری رکھے جا سکتے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ کسی حتمی معاہدے سے قبل اس کی اہم شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے چند اہم معاملات حل ہونا ضروری ہیں، جن میں لبنان میں جنگی صورتحال کا خاتمہ، تیل کی پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔
اس بات کی تصدیق قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد النصاری نے بھی کی ہے کہ امریکی وفد دوحہ میں موجود ہے لیکن ایرانی وفد کے ساتھ کوئی میٹنگ طے نہیں ۔
Qatar’s foreign ministry spokesman, Majed Al Ansari, says US envoys Jared Kushner and Steve Witkoff are in Doha, but that there are no meetings currently scheduled with Iranian officials. pic.twitter.com/TxRv7pSO0a
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) June 30, 2026
دوسری جانب امریکا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال رہے اور خطے میں تجارتی راستے کھلے رہیں۔ ایران آبنائے ہرمز کے انتظام اور اپنے کردار پر زور دے رہا ہے، جس پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔
قطر اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ دوحہ میں سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن ابھی تک دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست ملاقات کا امکان نظر نہیں آ رہا۔
تہران کا مؤقف ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر کوئی نیا معاہدہ قبول نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن فوری پیش رفت چاہتا ہے۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باوجود اہم اختلافات بدستور موجود ہیں۔