عطیہ بیگم یا عطیہ فیضی رحمین نوّے سال کی عمر تک برصغیر کے ادبی اور سماجی حلقوں میں متحرک رہیں۔ عطیہ کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1877 اور جائے پیدائش استنبول ہے۔ ان کا انتقال یکم جنوری 1967 کو کراچی میں ہوا اور تدفین اسماعیلی بوہرہ قبرستان میں کی گئی۔
ممبئی کے مشہور طیبع جی خاندان کی نواسی عطیہ کو 1898 میں خاندان کی پہلی سائیکل سوار خاتون ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں روایت شکن عطیہ نے فوٹوگرافی اور مصوری سیکھی
فیضی رحمین پہلے مسلم مصور تھے جن کی تصاویر Tate گیلری کا حصہ بنیں، جہاں پندرھویں صدی سے آج تک فنِ مصوری محفوظ ہے۔ فیضی پہلے مسلم غیر یورپی آرٹسٹ تھے جن کا کام یہاں پیش کیا گیا۔
دونوں میں بیوی نے اپنے اپنے نام تبدیل کئے ۔ عطیہ ، بیگم سے عطیہ فیضی بنیں اور سمیول رحمین سے سمیول فیضی رحمین کہلائے۔ شادی کے وقت عطیہ کی عمر 35سال جبکہ سمیول کی عمر 33سال تھی۔
ایوانِ رفعت: بمبئی سے کراچی تک کا سفر، قیام اور تباہی کی کہانی
عطیہ فیضی اور فیضی راحمین کا موجودہ ایوان رفعت
وزیٹر بک میں کئی ممتاز افراد اد نے عطئی فیضی کے بارے میں لکھا ۔
آج ایوان رفعت بس سائن بورڈ کی شکل میں برقرار ہے ۔
فیضی راحمین کا فن پارہ ۔
دونوں میں بیوی نے اپنے اپنے نام تبدیل کئے ۔ عطیہ ، بیگم سے عطیہ فیضی بنیں اور سمیول رحمین سے سمیول فیضی رحمین کہلائے۔ شادی کے وقت عطیہ کی عمر 35سال جبکہ سمیول کی عمر 33سال تھی۔
Tagged Atiya Fazi, Awan e Rafat, Fazi Rahmin, Ismaily Bohrah, Karachi