ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کو اُن کی وصیت اور اہلِ خانہ کی خواہش کے مطابق مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق تدفین کی تقریب انتہائی سادہ مگر باوقار انداز میں منعقد ہوئی، جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، عسکری قیادت، مذہبی رہنما اور ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی۔ اس سے قبل تہران سمیت مختلف شہروں میں ان کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات ادا کی گئیں، جہاں لاکھوں افراد نے شرکت کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ انہیں مقدس شہر مشہد میں حضرت امام رضاؑ کے مزار کے قریب دفن کیا جائے۔ ان کے اہلِ خانہ نے بھی اسی خواہش کی توثیق کی، جس کے بعد تدفین کے لیے مشہد کا انتخاب کیا گیا۔ ایران میں اس موقع پر کئی روزہ سوگ منایا گیا جبکہ مختلف سرکاری اداروں پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے بھی ایران کے متعدد عسکری اہداف پر فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اپنے فوجیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئیں، جبکہ ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ خلیجی ممالک نے کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل کی ہے، جبکہ عالمی برادری مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
ادھر عالمی تجارتی راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ شپنگ کمپنیوں اور بحری تجزیہ کاروں کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث کئی تجارتی جہازوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں یا روانگی مؤخر کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور تجارتی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے اور زیادہ وسیع تنازع کی جانب دھکیل سکتی ہے، جس سے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی اقتصادی استحکام بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی طاقتیں دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہیں تاکہ خطے میں مزید بدامنی سے بچا جا سکے۔