کراچی اور سندھ کے دیگر حصوں میں منہ کے کینسر کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بیماری خاص طور پر نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق منہ کے کینسر میں تیزی سے اضافہ کی وجہ گٹکا ، ماوا ، پان ، چھالیہ اور تمباکو کی مصنوعات کے بڑے پیمانے پر استعمال ہے۔
کراچی کینسر رجسٹری نے 2017 سے 2021 کے درمیان سندھ میں منہ کے کینسر کے 65,886 کیسز ریکارڈ کئے جبکہ ڈاؤ کینسر رجسٹری نے 2010 سے 2019 کے درمیان منہ اور ہونٹوں کے کینسر کے 22,858 کیسز رپورٹ کئے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ کیسز کراچی کے ضلع جنوبی اور دیگر ساحلی اور مضافاتی علاقوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ پچھلے پانچ سال کے دوران سندھ میں منہ کے کینسر کے کیسز میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے کم عمر مریضوں کی اموات بھی بڑھ گئیں ۔
کراچی میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مراکز میں ریڈی ایشن تھراپی دستیاب ہے لیکن بڑھتی طلب کو پورا کرنے کے لئے موجودہ سہولیات ناکافی ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سندھ میں منہ کے کینسر کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ گٹکا ، مین پوری ، ماوا ، چھالیہ اور تمباکو کی مصنوعات کا وسیع پیمانے پر استعمال ہے۔