loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
21-Jul-2026
5-Safar-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
21-Jul-2026
5-Safar-1448

کراچی: مال بردار ٹرین کی متعدد بوگیاں پٹری سے اترنے کے بعد ملک بھر میں ٹرین آپریشن شدید متاثر ہو گیا، جس کے باعث کراچی سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ ٹریک کی بحالی کا کام جاری ہے، تاہم اسے مکمل طور پر بحال ہونے میں مزید وقت درکار ہوگا۔

ریلوے ذرائع کے مطابق کراچی سے روانہ ہونے والی ہزارہ ایکسپریس اور شالیمار ایکسپریس کو منسوخ کر دیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ روز بھی متعدد ٹرینوں کی آمدورفت معطل رہی۔ آپریشن متاثر ہونے کے باعث کراچی آنے والی کئی ٹرینیں 15 سے 20 گھنٹے کی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہوئیں، جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

ذرائع کے مطابق زکریا ایکسپریس تقریباً 15 گھنٹے تاخیر سے کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پہنچی، جبکہ دیگر اپ اور ڈاؤن ٹرینوں کو روہڑی، گمبٹ اور مختلف اسٹیشنوں پر عارضی طور پر روک دیا گیا تاکہ متاثرہ ٹریک پر مزید ٹرینوں کی آمدورفت نہ ہو سکے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ایک مال بردار ٹرین کی 16 بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں، جس کے نتیجے میں ریلوے ٹریک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ حادثے کے بعد امدادی اور انجینئرنگ ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور بحالی کا کام شروع کیا، تاہم ٹریک کی مکمل مرمت اور محفوظ آپریشن کی بحالی میں وقت لگ رہا ہے۔

ٹرین آپریشن معطل ہونے کے باعث کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کا رش دیکھنے میں آیا، جہاں سینکڑوں افراد اپنی ٹرینوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انتظار کرتے رہے۔ کئی مسافروں نے ٹرینوں کی منسوخی اور غیر یقینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ایک مسافر نے بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ گرمیوں کی تعطیلات گزارنے کے لیے شمالی علاقوں کی سیر پر جا رہے تھے، لیکن ٹرین منسوخ ہونے کے باعث ان کا پورا سفری منصوبہ متاثر ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے حکام کی جانب سے بروقت معلومات نہ ملنے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

دیگر مسافروں نے بھی شکایت کی کہ کئی گھنٹوں سے ریلوے اسٹیشن پر انتظار کے باوجود انہیں واضح طور پر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ٹرینیں کب روانہ ہوں گی۔ بعض مسافروں نے متبادل سفری ذرائع اختیار کرنے کی کوشش کی، تاہم اچانک بڑھتی ہوئی طلب کے باعث انہیں اضافی اخراجات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

ریلوے حکام نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی متعلقہ ٹرین کی تازہ صورتحال معلوم کریں اور غیر ضروری طور پر ریلوے اسٹیشن آنے سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور ٹریک مکمل طور پر محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ہی ٹرین آپریشن معمول کے مطابق بحال کیا جائے گا۔

حادثے کے باعث نہ صرف مسافر ٹرینوں بلکہ مال بردار ٹرینوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے ریلوے کے شیڈول اور سامان کی ترسیل پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں