loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

مجتبی صاحب میں کینٹین جا رہا ہو ہوں جلدی سے آ جائیں بہت بھوک لگ رہی ہے.

ہاں تم پہنچو! میں بس آیا کہ آیا.

میں نے تیزی سے فائل سمیٹتے ہوئے جواب دیا.

آج کیا ہے خاصے میں جناب؟

یار عظیم تم بہت بھاگوان ہو، کیا کھانا بناتی ہیں بھابھی، مزے ہیں بھئی تمہارے. میں نے کرسی کھینچتے ہوئے کہا.

خیر آپ ناشکری نہ کریں مجتبٰی صاحب . بھابھی بھی کم مزے کا نہیں بناتیں. عظیم نے مسکراتے ہوئے بدلہ چکایا.

 ہم دونوں نے اپنا اپنا ناشتے دان کھول کر ٹیبل پر سجا دیا. یوں سمجھئے کہ کینٹین کی ٹیبل پر یہ میری اور عظیم کی روز کی گفتگو تھی. ہم دونوں کھانا گھر سے لاتے تھے. اس مہنگائی میں باہر کا کھانا سفید پوش افورڈ ہی کب کر سکتے ہیں؟ مہنگائی کی عفریت سب ہڑپ کر جاتی ہے اور بچت کی کوئی صورت بچتی ہی نہیں . ویسے بھی اب اس اڈھیڑ عمری میں گھر کا سادہ کھانا ہی زود ہضم.

عظیم اور میرا آٹھ سال کا ساتھ ہے. وہ سنیئر کلرک اور میں، اب جا کر منیجر. عظیم کم گو اور لیے دیے رہنے والا انسان. وہ ہمیشہ دھیمے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کرتا اور اس کی باتوں میں دانش اور درویشی کا گہرا صوفیانہ رنگ جھلکتا.

ایک دن لنچ بریک میں مجھے کینٹین میں کہیں جگہ نہیں ملی بس عظیم کی ٹیبل پر ایک کرسی خالی تھی سو اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور اس کے اخلاق کا گرویدہ ہو گیا. پھر یہ معمول ہو گیا کہ ہم دونوں ساتھ ہی کھانا کھاتے اور جب سے ہم نے آپس میں کھانوں کا اشتراک شروع کیا، میں تو اس کے کھانوں کے ذائقے کا اسیر ہو کر رہ گیا. عظیم کی بیگم زہرہ بلاشبہ اپنے فن میں طاق تھیں . اس کے دو بچے تھے. بیٹی بیاہ کر کوئٹہ چلی گئی تھی اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا، بہو اور دو پوتے اور ایک پوتی رہتے تھے. عظیم، بھٹو کالونی میں رہتا تھا. مجھے عظیم کی جو بات سب زیادہ بھاتی تھی وہ اس کا اپنی فیملی سے بے انتہا لگاؤ. وہ اپنے گھر والوں کا ذکر ایک جذب کے عالم میں کرتا تھا.

مجھے بھی اپنی بیوی بچے بہت عزیز مگر عظیم کا تو لیول ہی الگ تھا. میں واقعی اس کے جذبہ محبت سے بہت متاثر تھا. ایک آدھ دفعہ میں نے اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی مگر وہ ٹال گیا، سو میں سمجھ گیا کہ وہ دوستی دفتر تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہے مگر میرے دل میں اس کے خاندان سے ملنے کی خواہش ضرور تھی. عظیم اپنے کنبے کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی مجھے تفصیل سے بتایا کرتا تھا. مثلاً ایک دن کہنے لگا کہ مجتبیٰ آج دفتر سے فارغ ہو کر بازار جانا ہے تیمور (چھوٹے پوتے ) کے لیے سائیکل لینی ہے . ایک دن بہت خوبصورت سا سویٹر پہنا ہوا تھا(عموماً وہ سردیوں میں کوٹ یا واسکٹ پہنتا تھا) سویٹر پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بتایا کہ بیٹی نے کوئٹہ سے بھیجا ہے. اکثر سردیوں میں بیٹی کی طرف سے بھیجی گئی بہترین سوغات، پستے بادام سے میری بھی تواضع کرتا. زہرہ بھابھی سنیما بینی کی نہایت شوقین . وہ دونوں ہر مہینے ایک فلم لازمی دیکھا کرتے تھے. مجھے اس کی فیملی سے لگاؤ بڑھتا جا رہا تھا. میں اس کی فیملی کے متعلق اتنا کچھ جان چکا تھا کہ اگر وہ کہیں سرِ راہ مل جاتے تو میں انہیں بنا کسی تعارف کے پہچان لیتا. زندگی اپنی مخصوص تیز رفتاری سے بھاگ رہی تھی. ہر شخص جانے کس چیز کی جلدی میں تھا، ایسے میں عظیم کی طبیعت کا سکون اور ٹھہراؤ بہت متاثر کن تھا.

وہ سنیچر کی خوشگوار شام تھی. میری بہو بیکنگ کی شوقین سو پورے گھر میں تازہ بیک کیے ہوئے کیک اور خستہ نان خطائیوں کی خوشگوار مہک مشام جاں کو معطر کرنے کے ساتھ ساتھ بھوک کو مہمیز کرنے کا باعث بھی. میں آنگن میں اپنی پسندیدہ جنبیلی کے جھاڑ تلے کرسی ڈالے چائے کا منتظر تھا کہ سامنے سے بیگم شتابی سے چلتی آئیں.

آئیں جنابِ من آپ اس قدر حسین موسم میں کہاں غائب ہیں؟

بیگم نے میرے رومانی موڈ پر پانی پھیرتے ہوئے سنجیدگی سے فون میری جانب بڑھایا اور کہا کہ مستقل بج رہا تھا.

دیکھیے کون ہے؟

میں نے نمبر دیکھا، کوئی انجان نمبر تھا. میں نے ڈائل کیا تو کسی نے بتایا کہ عظیم صاحب ہسپتال میں ہیں اور ان کے فون میں واحد یہی نمبر سیو تھا لہذا وہ مجھے کال کر کے بتا رہا ہے. میں احمد کے ساتھ بھاگم بھاگ سول ہسپتال پہنچا. وہاں حارث نے بتایا کہ صبح بازار جاتے ہوئے عظیم کو ایک موٹر بائیک والے نے بری طرح ٹکر مار دی اور انہیں زخمی چھوڑ کر موقع پر ہی فرار ہو گیا. محلے والوں نے حارث کو بتایا اور یہ انہیں لیکر ہسپتال آ گیا. اب چونکہ رات سر پر ہے تو اسے گھر جانا ہے کہ بیوی بچے اکیلے ہیں. مجھے حیرت تو ہوئی کہ کیسا بیٹا ہے کہ باپ کو اس بےکسی اور بے ہوشی کے عالم میں چھوڑ کر گھر جانے کی بات کر رہا ہے؟

 پھر مجھے عظیم کی کہی گئی بات یاد آئی بہو کے یہاں چوتھے بچے کی آمد آمد ہے. میں نے یہی سمجھا کہ غالباً اسی وجہ سے اسے گھر جانا پڑ رہا ہے. میں نے اسے تسلی دی اور کہا ” بے فکر ہو کر گھر جاؤ میں رات میں عظیم کے پاس رک جاؤں گا.” چلتے وقت میں اسے رخصت کرنے وارڈ کے دروازے تک آیا۔

اس نے مصافحہ کرتے ہوئے میرا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا ” چچا بہت بھلے آدمی ہیں اور آپ کے آ جانے سے مجھے بہت ڈھارس ہوئی ہے.”

میں نے ہنستے ہوئے کہا” تم اپنے باپ کو چچا کہتے ہو؟”

اس کے چہرے پر بے پناہ حیرت عود آئی، “باپ؟”

” غالباً آپ کو کچھ غلط فہمی ہے. چچا میرے گھر میں عرصے دراز سے کرائے دار ہیں. یہ دس سال پہلے سکھر سے کراچی آئے تھے اور ان کی خستہ حالی دیکھ کر میں نے انہیں نیچے کے حصے کا آدھا پورشن کرائے پر دے دیا تھا. یہ نہایت منکسر المزاج اور شریف النفس ہیں.  ہمیں آج تک ان سے کوئی شکایت نہیں ہوئی. یہ شاید دنیا میں تنہا ہیں اور کم ہی کسی سے گھلتے ملتے.”

یہ کہ کر وہ چلتا بنا اور میں حق دق کھڑے کا کھڑا رہ گیا.

احمد نے آ کر میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا تو میں حقیقی دنیا میں لوٹ آیا. میں نے احمد سے کہا کہ تم گھر جاو، صبح ناشتہ لے کر آنا. احمد نے بہت ضد کی کہ رات وہ رک جاتا ہے اور میں صبح آ جاؤں مگر میں نہ مانا.

احمد کے جانے کے بعد میں کرسی گھسیٹ کر عظیم کے نزدیک بیٹھ گیا اور غور سے اس کا زرد ستا ہوا چہرہ دیکھتا رہا. وہ پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا اور ڈرپ قطرہ قطرہ اس کی نسوں میں تھکی ہوئی زندگی کو دوبارہ رواں کر رہی تھی. میں نہیں جانتا کہ یہ بے ریا اور مخلص انسان دہری زندگی کیوں گزار رہا تھا؟ مجھے اس پر غصہ کے بجائے اس کی بے بسی پر  ترس آ رہا تھا. فجر کے قریب عظیم نے ایک کراہ کے ساتھ آنکھیں کھولیں .

نو بجے احمد ناشتہ لیکر آیا تو میں نے اس سے کہا کہ وہ جا کر  بڑے ڈاکٹر سے عظیم کی تفصیلی رپورٹ لے کہ میں عظیم کو دوسرے ہسپتال میں منتقل کرنا چاہتا ہوں . دوپہر تین بجے تک یہ کاروائی مکمل ہو گئی اور میں اسے انڈس ہسپتال لے آیا.

اب عظیم پورے ہوش و حواس میں تھا لیکن اس نے مجھے کسی بھی بات سے نہیں روکا. احمد کو اس کے پاس چھوڑ کر میں گھر آیا. نہا دھو کر اپنی اور اسکی درخواست لکھی اور بلقیس کو تاکید کی کہ کل احمد اپنے دفتر جاتے ہوئے یہ دونوں درخواست فیکٹری میں دیتا جائے.

مغرب کی نماز کے بعد میں ہسپتال پہنچا. عظیم خاصا بہتر تھا. حال احوال ہوا پھر ہم دونوں کے درمیان ایک گونجتی خاموشی در آئی. تھوڑی دیر کے بعد عظیم نے ہلکی آواز میں کہا ” کیا تم مجھ سے کچھ پوچھو گے نہیں؟”

میری خاموشی پر ایک طویل وقفے کے بعد ایک ٹراس کی کفیت میں عظیم نے بولنا شروع کیا۔ اسے اپنی اوائل جوانی ہی میں احساس ہو گیا تھا کہ وہ نارمل نہیں ہے. میں ایک ادھورا مرد تھا اور رہی سہی کسر رازداری کے چکر میں اناڑی حکیموں نے پوری کر دی . نوکری لگنے کے بعد جب ماں کی طرف سے شادی کا اصرار بڑھا تو میں نے ماں کو شریک راز کر لیا. اماں نے ڈاکٹر سے مدد لینے کی خاطر بڑے بھائی سے مشورہ کیا اور یوں یہ بات کھلتی چلی گئی. ڈاکٹروں نے مجھے لاعلاج قرار دیا. میں اول اول خاندان میں قابل رحم اور بیچارہ پھر طنز و مزاح کا نشانہ بن کر رہ گیا. یہ اذیت اور بے بسی مجھے تنہائی پسند اور گوشہ نشین کرتی چلی گئی. مگر تم تو جانتے ہو نا مجتبٰی کہ اپنوں کا وار کتنا کاری ہوتا ہے. وہ آپ کی دکھتی رگ دبانا بخوبی جانتے ہیں.

مجھے جو بھی دشمن جاں ملا وہی پختہ کار جفا ملا

نہ کسی کی ضرب غلط پڑی، نہ کسی کا تیر خطا ہوا

میں اماں کی خاطر مارے باندھے سکھر میں دن گزار رہا تھا. اماں کے انتقال کے تیسرے دن ہی سکھر چھوڑ دیا. اسٹیشن پر کراچی کی گاڑی تیار کھڑی تھی سو اسی پر بیٹھ کر کراچی پہنچ گیا. اسٹیشن پہنچ کر ٹیکسی والے سے قریب ترین سرائے کا پتہ پوچھا اور اللہ والا سرائے میں دو مہینے مقیم رہا. وہ سرائے حارث کے چچا کی تھی. اس بیچ مجھے مولا کے کرم سے بری بھلی نوکری بھی مل گئی. حارث کے چچا کی سفارش پر اس کے گھر کے نچلے آدھے پورشن میں سر چھپانے کا آسرا بھی. میں چونکہ لوگوں سے بہت خائف سو میرا ملنا جلنا نہ ہونے کے برابر. کراچی جیسے مصروف شہر کی آپا دھاپی میں ویسے بھی تو کون میں کون. میں با آسانی اس جم غفیر میں رچ بس گیا. نہ میں نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا اور نہ ہی وہاں سے کبھی کوئی میری تلاش میں آیا.

میں بالکل نہیں جانتا کہ کب  میرے ذہن نے حارث کے خاندان کو اپنے کنبے کے طور پر اپنا لیا. یوں میں نے اپنا ایک تصوراتی گھر آباد کر لیا، جہاں میں، زہرہ میری بیوی اور حارث کی فیملی میرے بچے اور پوتا پوتی بن گئے. کبھی کبھی میں چاہتا تھا کہ کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرو مگر یقین کرو مجتبیٰ میرا تصوراتی گھر اتنا بھرپور اور خوبصورت تھا کہ میں خود میں اسے توڑنے کی ہمت ہی نہیں پاتا تھا. میری یہ خیالی دنیا کسی کو نقصان بھی تو نہیں پہنچا رہی تھی ناں. البتہ یہ تصوراتی گھر میرے تپتے دل کے لیے مرہم تھا، میری جائے پناہ اور میرانخلستان.

مجتبٰی جب تم دفتر میں میرے پکائے ہوئے کھانوں کی تعریفیں کرتے تھے تو یقین جانو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے زہرہ کے سگھڑاپے اور سلیقے کی تعریف ہو رہی ہے. میں نے زہرہ کے لیے کثرت سے ساڑھیوں کی، ان سے میچنگ چوڑیوں اور سینڈلوں کی خریداری کی ہے. تمہیں پتہ ہے مجتبٰی میرے کمرے میں ایک مقفل الماری ہے جس میں زہرہ کے لیے خرید کردہ چیزیں جمع ہیں. میں جب فلم دیکھنے جاتا تو ہمیشہ دو ٹکٹیں خریدتا کہ میرے برابر کی سیٹ مجھے زہرہ کے وجود سے بھری بھری محسوس ہوتی اگر کبھی کوئی اس سیٹ پر بیٹھ جاتا تھا تو میں بد مزہ ہو کر پکچر ادھوری چھوڑ کر اٹھ جاتا.  میں اکثر اپنے آپ کو کبھی حارث تو کبھی بیٹی کی طرف سے تحائف بھی دیتا رہتا.

میں جانتا ہوں کہ جسمانی طور پر میں ایک نامکمل مرد ہوں. ہاں میں نامرد ہوں مگر کیا کروں کہ اس نامکمل وجود میں کمبخت دل مکمل ہے.

اللہ جب جسم ادھورا بناتا ہے تو پھر دل کیوں مکمّل بنا دیتا ہے مجتبٰ

خواہشات اور ارمان ادھورے جسم میں مقید مکمل دل میں ڈیرے کیوں ڈال لیتے ہیں؟

 کیوں مجتبٰی کیوں؟ بتاؤ ناں!

چاہے جسم ادھورا ہو یا دل اس سے بڑا آزار دنیا میں کوئی اور  نہیں. ادھورا پن انسان کو کھا جاتا ہے اور اس کا شمار نہ زندوں میں ہوتا ہے اور نہ ہی مردوں میں.

وہ اپنے ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا کر بلک بلک کر روتا رہا.

میں ایک ٹک بے بسی سے اسے دیکھتا رہا کہ میرے پاس نہ اسے دلاسا دینے کی ہمت تھی اور نہ ہی اس کے کسی سوال کا جواب.

از قلم

شاہین کمال

کیلگری

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں