loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

کراچی: ملک کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ کراچی ایک بار پھر مستقل انتظامی قیادت سے محروم ہوگئی، کیونکہ سندھ حکومت تاحال مستقل وائس چانسلر کا تقرر نہ کر سکی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جامعہ کراچی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر خالد عراقی کی مدتِ ملازمت 28 جولائی کو ختم ہونے کے بعد این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد طفیل کو جامعہ کراچی کا عارضی وائس چانسلر مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وہ 28 جولائی سے اضافی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

تعلیمی حلقوں کے مطابق جامعات میں عارضی وائس چانسلر کی تقرری عموماً اسی جامعہ کے سینئر اور اہل اساتذہ میں سے کی جاتی ہے، تاہم اس بار جامعہ کراچی کے لیے روایتی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اور ایک دوسری جامعہ کے وائس چانسلر کو اضافی چارج سونپا گیا ہے۔

جامعہ کراچی ملک کی سب سے بڑی سرکاری جامعات میں شمار ہوتی ہے، جہاں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقل وائس چانسلر کی عدم تقرری سے اہم انتظامی، تدریسی اور ترقیاتی فیصلے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے تاحال مستقل وائس چانسلر کی تقرری کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث جامعہ کراچی ایک مرتبہ پھر عارضی انتظامی نظام کے تحت چلائی جائے گی۔

جامعہ کراچی پاکستان کی سب سے بڑی سرکاری جامعات میں شمار ہوتی ہے، جہاں تقریباً 40 سے 45 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی میں 50 سے زائد شعبہ جات، 9 فیکلٹیز اور 20 سے زائد تحقیقی و تدریسی مراکز قائم ہیں، جبکہ ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں طلبہ ہر سال اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے یہاں داخلہ لیتے ہیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں