loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
4-Aug-2026
19-Safar-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
4-Aug-2026
19-Safar-1448

ان سے ملیے۔ یہ نیہا بورا ہیں جو جنتر منتر احتجاج میں نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔ جواہر لال یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالب علم ہیں۔ آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر ہیں۔ سونم وانگ چک کے ساتھ اکیس روز بھوک ہڑتال پر بیٹھیں۔ ان کا نعرہ ہے

سب کو شکشا سب کو کام

ورنہ ہو گی جیت حرام

شکشا یعنی تعلیم اور کام یعنی روزگار

پاکستان میں جب طلبہ یونین ہوتی تھی تو وہ بدمعاشیاں کرتی تھی۔ نالائق طالب علموں کو داخلے دلاتی تھی۔ طالب علموں کے چاچو کی عمر کے لڑکوں کو ہاسٹلوں میں رکھتی تھی۔

اب اگر طلبہ یونین بنے تو اس کے ملکی سیاسی جماعتوں سے تعلق پر پابندی ہونی چاہیے۔

تعلیم کے مسائل پاکستان میں بھی شدید ترین ہیں۔ ہر سال میڈیکل کالجوں میں داخلے کے امتحان ایم ڈی کیٹ کے پرچے لیک ہو جاتے ہیں۔ اس بار کیمبرج اے لیول کے پرچے بھی لیک ہوئے۔ خود میرے بچے پیپر لیک کے بعد نالائقوں کے میرٹ پر اوپر آنے اور پیپر دوبارہ ہونے کی اذیت سے گزر چکے ہیں۔ لیک ہونے والے پیپر دوبارہ ہو چکے مگر لیک کے ذمے دار اور مقامی دھرمیندر پردھانوں کو کوئی سزا نہیں ملی۔

سرکاری یونی ورسٹیاں ہیں تو ان کی فنڈنگ کم سے کم تر کی جا رہی ہے۔ حکم رانوں کے لیے پیسہ ہے مگر سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے نہیں۔ کراچی یونی ورسٹی کی زمینیں بیچے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کراچی یونی ورسٹی میں یونین چالیس سال سے ختم ہو چکی مگر یہاں تیس پینتیس سال سے رینجرز بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ لوگ جہاں ایک بار بیٹھ جائیں وہاں سے پھر نہیں جاتے۔

پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھمبیوں کی طرح اگ رہے ہیں۔ ان میں آپ پیسہ پھینک کر ڈگری اٹھا سکتے ہیں۔ ان میں فیل ہونے کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں سب پاس ہو جاتے ہیں۔ باقی صوبوں کا حال مجھے نہیں معلوم مگر سندھ اسمبلی نے ہر للو پنجو کو نجی یونی ورسٹی کھولنے کا چارٹر دیا ہوا ہے۔ اس تعلیمی نظام میں جو ذہین بچے ہیں وہ یہ سب دیکھ کر بس ایک ہی مقصد حیات اپنائے ہوئے ہیں کہ ہمیں بنیادی تعلیم حاصل کر کے پاکستان سے باہر نکلنا ہے۔

سیاسی شعور نالائق بچوں میں تو کیا ذہین بچوں میں بھی مفقود ہے۔ اگر کسی میں تھوڑا بہت سیاسی شعور آتا ہے تو ریجنل ازم کے راستے آتا ہے۔ اس سوچ سے آتا ہے کہ میری قوم مظلوم ہے، میری زبان بولنے والوں سے زیادتی ہوتی ہے۔ میرے فرقے والوں کو سب مارتے ہیں۔ حالاں کہ ملک میں چاروں طرف یہی حال ہے۔

سیاسی شعور نہ ہونے کی وجہ رٹا سسٹم بھی ہے۔ طالب علم کو اپنے موضوع کی سمجھ ککھ نہ آئے مگر وہ رٹا لگا کر بہت سے نمبر حاصل کر سکتا ہے۔ امتحان ذہانت اور بصیرت کے بجائے حافظے کے امتحانات ہیں۔ تعلیمی اداروں میں سکل بیسڈ تعلیم کا بندوبست نہیں۔ بچے ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

ملک میں نیوز چینلوں کی بہار آئی تو ہر ادارے میں ماس کوم ڈپارٹمنٹ کھل گئے۔ ایک جگہ میں نے تین ماہ کا کورس پڑھایا اور پھر توبہ کر لی کیوں کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ ڈپارٹمنٹ صرف بے روزگاروں کی نئی کھیپ پیدا کر رہے ہیں۔

یہ طالب علم اپنی اپنی ثقافت کو سیلی بریٹ کرنا چاہتے ہیں تو اس پر بھی ہابندیاں ہیں۔ بلوچ مسلح تنظیموں کی وجہ سے بلوچ کا صرف نوجوان ہونا بھی جرم بن چکا ہے۔ ان کے نام کے ساتھ بلوچ لگا دیکھ کر انھیں اٹھایا جا سکتا ہے۔ رہائی کے لیے بھتے لیے جاتے ہیں۔

تو بھئی طالب علموں سے متعلق جن مسائل پر بھارت میں دھرنا ہوا وہ بھارت سے بدتر شکل میں پاکستان میں موجود ہیں۔ ان کے حل کے لیے یہاں پرامن اور متواتر یعنی سسٹینڈ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مگر ہمارے نوجوان نمبروں کی دوڑ، پھر روزی روٹی کی دوڑ اور پھر ملک سے بھاگنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ یہ ان میں سے ہر ایک کے لیے انفرادی حل ہے۔ اجتماعی حل نہیں۔ اجتماعی حل کے لیے ایک نیہا بورا کی ضرورت پڑتی ہے۔

لیکن نیہا بورا کی پیدائش کے لیے بھی ایک زندہ معاشرے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جنگ میں تو آپ بھارت کے چھ جہاز مار لیں گے، اپنے معاشرے کو ان سے آگے کیسے لے کر جائیں گے؟ قوم وہی ترقی کرتی ہے جس کا معاشرہ ترقی یافتہ ہو۔ ترقی یافتہ معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں صرف فوج نہیں، تعلیم، معیشت، فلم، تخلیق، میڈیا، کھیل، عورت سب ترقی یافتہ ہوں۔ جہاں ذہانت کے لیے آسمان تک کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ قوم میں چند ہزار یا چند لاکھ لوگ ترقی کر جائیں اور معاشرہ پس ماندہ رہ جائے تو یہ پوری قوم کی ناکامی ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں