بارشوں کا موسم گرمی تو کم کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے اضافی احتیاط کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق مون سون کے دوران موسم میں اچانک تبدیلی، ہوا میں نمی کا اضافہ اور مختلف انفیکشنز کا خطرہ خاص طور پر ان افراد کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے جو پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، بلند کولیسٹرول یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں درجہ حرارت اور نمی میں مسلسل تبدیلیاں جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں جس کے نتیجے میں بعض افراد کا بلڈ پریشر غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال خون کی شریانوں سے متعلق مسائل کا شکار افراد میں فالج کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران وائرل انفیکشنز، نزلہ، کھانسی، معدے کی خرابی اور جسم میں پانی کی کمی جیسے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام عوامل جسم پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، جس سے بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں معمولات زندگی میں تبدیلی، جسمانی سرگرمی میں کمی، نیند کے معمولات متاثر ہونا اور ادویات کے استعمال میں لاپرواہی بھی صحت کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں احتیاطی تدابیراختیار کرکے فالج کے ممکنہ حملے سے بچا جا سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر کے مطابق اگر کسی شخص میں اچانک جسمانی توازن خراب ہونے لگے، بینائی میں تبدیلی محسوس ہو، چہرے کا ایک حصہ جھک جائے، ہاتھ یا ٹانگ میں کمزوری پیدا ہو یا بولنے میں دشواری پیش آئے تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔ کھانے پینے کے معمولات کو متوازن رکھنا، شوگر، بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کرنا بھی احتیاطی تدابیر میں شامل ہے۔