loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
4-Aug-2026
19-Safar-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
4-Aug-2026
19-Safar-1448

لاہور: پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ) کے قیام کے بعد پولیس مقابلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خطرناک جرائم پیشہ عناصر، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، بھتہ خوری اور منظم جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مقابلوں کی شفافیت، قانونی حیثیت اور احتساب کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہیں۔

فروری 2025 میں قائم کیے گئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو پنجاب پولیس کا خصوصی یونٹ قرار دیا گیا، جسے جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور خصوصی اختیارات کے ذریعے بڑے جرائم کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس دوران مختلف اضلاع سے روزانہ کی بنیاد پر پولیس مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت یا گرفتاری کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔

تاہم ان کارروائیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے 2026 میں جاری اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اپریل سے دسمبر 2025 کے دوران پنجاب میں تقریباً 670 پولیس وسی سی ڈٰ ی مقابلوں میں 924 افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق متعدد واقعات میں ایف آئی آرز کا متن ایک جیسا تھا، پولیس کا مؤقف بھی تقریباً یکساں تھا کہ ملزمان نے پہلے فائرنگ کی، جبکہ بعض واقعات میں آزادانہ تحقیقات اور فرانزک شواہد پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

کمیشن نے سفارش کی کہ ایسے تمام واقعات کی نگرانی کے لیے ایک آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا تمام مقابلے قانون کے مطابق ہوئے یا نہیں۔

دوسری جانب پنجاب پولیس اور سی سی ڈی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں صرف ان ملزمان کے خلاف کی جاتی ہیں جو مسلح مزاحمت کرتے ہیں یا عوام اور پولیس اہلکاروں کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر مقابلے کے بعد قانونی کارروائی، مقدمے کا اندراج اور متعلقہ شواہد جمع کیے جاتے ہیں، جبکہ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں محکمانہ تحقیقات بھی کی جاتی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پولیس مقابلے بذات خود غیر قانونی نہیں، تاہم ہر ہلاکت کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد، پوسٹ مارٹم، بیلسٹک رپورٹ، جائے وقوعہ کا معائنہ اور گواہوں کے بیانات یہ ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ آیا پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی یا طاقت کا غیر ضروری استعمال ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جرائم کے خلاف سخت کارروائی اور شہریوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کا تحفظ بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ پولیس مقابلوں کے ہر واقعے میں شفاف تحقیقات، مؤثر نگرانی اور جوابدہی کا نظام موجود ہو تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔

پنجاب میں بڑھتے ہوئے پولیس اور سی سی ڈی مقابلے اس وقت نہ صرف امن و امان بلکہ قانون، احتساب اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ایک اہم عوامی بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ حکومت ان کارروائیوں کو جرائم کے خلاف کامیاب حکمت عملی قرار دیتی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی آزادانہ جانچ اور شفافیت پر زور دے رہی ہیں۔ اس بحث کا حتمی جواب مؤثر تحقیقات، عدالتی نگرانی اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار ہی فراہم کر سکتے ہیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں