کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے دھماکے کے تین روز بعد جاں بحق افراد کی تعداد 24 ہوگئی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ ہرنائی اور ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور کان میں پھنسے تمام کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
حادثے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں غم کی لہر برقرار ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں جاں بحق کان کنوں کی نماز جنازہ اور تدفین کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز نے بھی واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ابتدائی شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجہ اور ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔
دوسری جانب مقامی افراد، مزدور تنظیموں اور کان کنوں کے نمائندوں نے کانوں میں حفاظتی اقدامات سخت کرنے، گیس کی نگرانی کے جدید نظام نصب کرنے اور مائن سیفٹی قوانین پر مؤثر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے مسلسل حادثات کے پیش نظر حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہو چکا ہے۔