loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
4-Aug-2026
19-Safar-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
4-Aug-2026
19-Safar-1448

ہمارے صحافتی کریئر کا آغاز زمانہ طالب علمی میں ہوا۔جامعہ کراچی میں اپنے پسندیدہ شعبے میں داخلے نے ہمیں خوشی سے نہال کردیا تھا۔ آج کل جمعیت اور سندھی طلباء تنظیم مد مقابل ہیں ۔جبکہ ہمارے دور میں جمعیت اورAPMSOایک دوسرے سے سر پھٹول کرتی تھیں۔

شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ڈگری لینے کے دوران ہمیں اس وقت بہت مزا آتا جب ApMSO کا کوئی پروگرام ہوتا۔ وجہ؟؟ فل مست ماحول ہوتا تھا۔ آرٹس لابی میں فل اسپیڈ میں پارٹی نغمے چلتے اور کارکن لڑکے روایتی کرتا پاجامہ اور لڑکیاں عموما سفید لباس میں خوب بنے ٹھنے لڈی ڈالنے کے انداز میں جھوم رہے ہوتے۔۔۔ موسیقی سے ہمارا گہرا شغف ۔الطاف بھائی کی سال گرہ کا کیک کٹتا کبھی پارٹی کے دیگر جشن مناۓ جاتے۔

ہم بھی ہجوم میں کھڑے ہو کے خوب تالیاں پیٹتے۔ مجال ہے کبھی کسی لڑکی کو کسی نے ہاتھ بھی لگایا ہو۔

2009_میں میڈیا میں پہلی باقاعدہ ملازمت ملی۔ کیونکہ ہم نیوز اینڈ کرنٹ افیئر سے وابستہ تھے اس لیے ہمیں مختلف سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں بھی جانے کا بھی موقع ملتا ۔خاص کر کرنٹ افیئر شو کی پروڈیوسر بننے کے بعد اینکر نادیہ مرزا کے ساتھ کبھی لاہور کبھی اسلام آباد خوب جلسے اور سیاسی میٹنگز میں شرکت کی۔PTI کا پہلا باقاعدہ بڑا جلسہ جو لاہور میں 2011 میں ہوا تھا اسے بھی کور کیا تھا ۔

پی ٹی آئی ہو، ن لیگ یا پیپلز پارٹی ہر جلسے میں خوب دھکم پیل مچی ہوتی۔ عام لوگ ایک طرف سیاسی جماعتوں سے وابستہ بڑے بڑے نام اسٹیج پر چڑھنے کے لیے سرکس کا حصہ بنے ہوتے۔ سیکڑوں لوگ اسٹیج پر کھڑے ہونے کو سعادت سمجھتے ۔یہی وجہ تھی کہ ایک جلسے میں عمران خان اسٹیج پر پہچنے کی کوشش میں زمین بوس ہوگئے تھے ۔عجیب کوفت ہوتی کہ نہ جانے کون کس وقت ہمیں بھی زدوکوب کردے۔

خاص کر PTI کے جلسے بےنظمی میں سب سے آگے ہوتے یہی نہیں بلکہ خواتین رپورٹرز اینکرز کو باقاعدہ ہراساں کیا جاتا تھا۔

لیکن اس ماحول میں اگر کسی کا جلسہ بے حد منظم ہوتا وہ صرف اور صرف ایم کیو ایم تھی۔ اس بات کو ان کے دشمن اور مخالفین بھی تسلیم کریں گے۔ خاص طور پر خواتین کا بے حد احترام کیا جاتا تھا۔چاہے وہ جلسہ ہو افطار پارٹیز ہوں یا میٹنگز ۔

ایم کیو ایم نے کراچی کی تاریخ کے بڑے اور کامیاب جلسے کئے ۔ جو ان کی پہچان بنے ۔ان جلسوں میں پورا خاندان بچے بڑے اور خواتین موجود ہوتے۔نہ صرف عام لوگ خاندان لاتے بلکہ ایم کیوم ایم کے وٰزیر کارکنان بھی مع اہل و عیال ہوتے۔ فیصل سبزواری کی پہلی بیگم اور بچیوں کو ہم نے پہلی بار جلسے میں ہی دیکھا تھا۔

صرف جلسے جلوس نہیں ۔ایم کیو ایم کا مرکز 90بھی بے حد منظم انداز میں کام کرتا تھا۔ ان کا میڈیا سینٹر بھی حیران کن طور پر بے حد ایڈوانس طریقے سے چلایا جاتا تھا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی کسی خاتون رپورٹر / میڈیا پرسن نے اس بات کی شکایت نہیں کی کہ ان کے ساتھ جلسوں میٹنگز میں بد تہذیبی کی گئی لیکن اج جوتیوں میں وہ دال بٹ رہی ہے کہ دوسری خواتین تو کجا اپنی ہی پارٹی سے منسلک خواتین محفوظ نہیں انہیں بھی ہراساں کیا جاتا ہے بدتمیزی کی جاتی ہے یا تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔

۔آج ایم کیو اکم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں خالد مقبول گروپ اور مصطفی کمال کے نہ صرف اراکین بلکہ رہ نما بھی گتھم گتھا ہوگئے بلکہ فائرنگبھی کی گئی اور پارٹی کی خواتین رہ نماوں کو بھی نہ بخشا گیا۔لندن سے اٹھنے والی ایک “ہیلو ” کی قدر و قیمت کا اندازہ تو اب ہورہا ہے بابو۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں