امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایران پر سب سے بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے صدارتی طیارے ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور آج (پیر) سے شروع ہوگا۔ ایران حملے کا نشانہ نہیں بننا چاہتا اور حملے کے بارے میں جانتا تھا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا جب چاہے کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ایران پر جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کی تیاری کررہے تھے۔اس وقت آبنائے ہرمز کے بارے میں ایک معاہدہ موجود ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے بارے میں بھی ایک معاہدہ حاصل کر لیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر فوجی حملے کے بجائے معاہدہ کرنا زیادہ پسند کروں گا۔ ہم ایران پر بھرپور حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایران پر حملوں کی منسوخی کے بارے میں گذشتہ شب کیے گئے ان کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔