کراچی میں قتل کیے گئے نوجوان تاجر میر رضا کی پوسٹمارٹم رپورٹ پر پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے اعتراض عائد کرتے ہوئے 14 سنگین غلطیوں کی نشاندہی کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس سرجن کراچی نے گزشتہ ہفتے کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی خان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 سنگین خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو مراسلہ ارسال کردیا۔
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید نے 29 جولائی 2026 کی رپورٹ پر مجموعی طور پر 14 اعتراضات اٹھائےہیں جن کے مطابق متوفی کی لاش کا ایکسرے نہیں کیا گیا۔ فائرنگ کے بارودی ذرات کی جانچ کے لیے ہاتھوں کے نمونے نہیں لیے گئے اور گولی کے داخلے کے زخم پر موجود بارودی نشانات کا کیمیائی تجزیہ بھی نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر سمیعہ کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ کھوپڑی اور گردن کا اندرونی معائنہ نہیں کیا گیا جبکہ فائرنگ کے زخموں کی سائنسی پیمائش اور تصاویر بھی نہیں لی گئیں۔ گولی کے داخلے اور اخراج کے زخموں کی سائنسی تشریح بھی نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ گولی کے جسم کے اندر راستے کی وضاحت نہیں کی گئی ۔زخموں کی فرانزک معیار کے مطابق تصاویر دستیاب نہیں اور جسم کے مختلف حصوں میں گلنے سڑنے کے عمل کی نوعیت کی مناسب وضاحت نہیں کی گئی۔
پولیس سرجن نے اپنے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ رپورٹ جواب سے زیادہ سوالات اٹھاتی ہے۔ سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام سے متعدد بار گروپ اور نجی واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا گیا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ڈاکٹرسمعیہ سید کی جانب سے اس حساس معاملے کے تمام پہلوؤں کا منطقی اور سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر مذکورہ اعتراضات کے جوابات درکار ہوں تو قبر کشائی پر غور کیا جانا چاہیے۔
اس معاملے پرمیڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ سے وضاحت بھی طلب کی گئی ہے۔