اندرونی دراڑیں وسیع ہونے کے باوجود پاکستان کا حکمران طبقہ بظاہر ملک کو درپیش متعدد بحرانوں سے نکالنے کے لیے درکار عزم، صلاحیت اور وژ محروم دکھائی دیتا ہے۔ جب تک پاکستان اپنے داخلی مسائل، یعنی ’اندرونی دراڑوں‘، کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا، ملک ایک نازک ریاست سے ناکام یا حتیٰ کہ مکمل طور پر ناکام ریاست کی جانب بڑھنے کے خطرے سے دوچار رہے گا۔ بادی النظر میں پاکستان اس وقت اسی سمت بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
بلوچستان میں شورش اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں دہشت گردی سے لے کر آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں بے چینی، گلگت بلتستان میں عدم استحکام اور سندھی و مہاجر قوم پرستی کے دوبارہ ابھرنے تک، متعدد مسائل پاکستان کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
اندرونی دراڑوں میں مسلسل اضافے کے باوجود حکمران طبقہ ملک کو درپیش متعدد بحرانوں سے نکالنے کے لیے درکار عزم، صلاحیت اور وژن سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی بدامنی کے ساتھ ساتھ پاکستان معاشی مشکلات اور عوامی بے چینی، خصوصاً نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی، کا بھی سامنا کر رہا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک کو بڑھتے ہوئے داخلی مسائل کا سامنا ہے، پاکستانی قیادت نے خلیج فارس اور مغربی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں اور ثالثی پر خاصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور آزاد جموں و کشمیر میں بے چینی پر توجہ دینے کے بجائے وفاقی وزیر داخلہ کا دو ہفتے بیرونِ ملک قیام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اہم داخلی مسائل سے نمٹنے میں مطلوبہ عجلت کا فقدان ہے۔
پاکستان کے بڑھتے ہوئے داخلی مسائل ملک کی بقا کے لیے کیسے خطرہ بن رہے ہیں؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والا ملک، جو پہلے ہی بڑھتے ہوئے معاشی مسائل سے دوچار ہے، ان بحرانوں سے کیسے نمٹ سکتا ہے؟ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے اور پاکستان کی داخلی ساختی کمزوریوں کو دور کرنے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں؟ ان سوالات کے جوابات کے لیے تنقیدی سوچ پر مبنی ایک غیر جانب دار تجزیے کی ضرورت ہے۔
یکم جولائی 2026 کو بلوچستان میں زیارت حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے منعقد کیے گئے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل (بی این پی-ایم) کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ صوبے میں تشدد کے سلسلے کو ختم کرنے کے لیے بات چیت اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔
ریاست کی جانب سے سکیورٹی صورت حال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے مینگل نے کہا: ’’اگر صوبے میں ایک فعال نظامِ انصاف موجود ہے تو زیارت حملے اور ایسے دیگر واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’ریاست کا اپنے ہی اداروں اور فیصلوں پر اعتماد کا فقدان ملک کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔ بلوچستان میں کئی تجربات کیے گئے، جن میں لیویز فورس کا خاتمہ اور بعد ازاں اسے پولیس میں ضم کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم، یہ تمام اقدامات ناکام رہے۔ حکومتیں مستقل حل فراہم کرنے کے بجائے کمیٹیاں تشکیل دے کر اور نمائندے بھیج کر عوام کو گمراہ کرتی رہتی ہیں۔‘‘
مینگل نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’اگر بلوچستان کی صورت حال واقعی معمول کے مطابق ہوتی تو لوگ دھرنے دینے پر مجبور کیوں ہوتے؟ ایسی ریاست جہاں سچ بولنا جرم سمجھا جائے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا بھی جرم قرار دیا جائے، زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی۔‘‘
بلوچستان میں تقریباً روزانہ پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ غیر مقامی افراد، خصوصاً پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ مسلسل حملے پاکستان کے سب سے بڑے اور بدامنی سے دوچار صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کی ریاستی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
بیشتر تجزیوں کے مطابق بلوچستان پاکستان کی سب سے اہم داخلی دراڑ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اپنی تزویراتی اہمیت اور وسیع قدرتی وسائل کے باعث، جن کی مالیت بعض اندازوں کے مطابق ایک ٹریلین امریکی ڈالر سے بھی زیادہ ہے، یہ صوبہ طویل عرصے سے علاقائی اور بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی مسابقت کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔
مینگل کا کہنا تھا کہ جب تک جبری گمشدگیوں اور سکیورٹی فورسز کی مسلسل تعیناتی جیسے مسائل کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا، بلوچستان بدامنی کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنسا رہے گا۔
بلوچستان کے علاوہ پاکستان کو دیگر علاقوں میں بھی سکیورٹی اور سیاسی نوعیت کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بدستور ایک مستقل تشویش ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
راولاکوٹ میں ہزاروں مظاہرین نے بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں کے خلاف دھرنا دیا، جبکہ وہ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین سے مذاکرات کے بجائے حکام نے بنیادی طور پر طاقت کے استعمال پر انحصار کیا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد کے خلاف عوامی ناراضی مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان بھی علاقائی شکایات اور محرومیوں کا ایک اور مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ حالیہ انتخابات پر اپوزیشن کے بعض حلقوں اور کچھ مبصرین نے مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے تنقید کی، جس کے نتیجے میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا اور طرزِ حکمرانی و سیاسی نمائندگی پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔
کراچی بھی ایک اور اہم فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ پاکستان کا تجارتی دارالحکومت بدترین طرزِ حکمرانی، بدعنوانی، اقربا پروری اور بوسیدہ بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل سے مسلسل دوچار ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ دیرینہ مسائل صوبائی اور مقامی اداروں پر عوام کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ شہر کی معاشی صلاحیت بھی ان کے منفی اثرات سے دوچار ہے۔