loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

پاکستان میں ہر سال 4 لاکھ سے زائد افراد فالج (اسٹروک) کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ متاثرہ مریضوں میں سے ایک تہائی جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور تقریباً نصف افراد مستقل طور پر دوسروں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق فالج دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک اور اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، تمباکو نوشی، موٹاپا اور غیر متوازن طرزِ زندگی فالج کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔

نیورولوجسٹ ڈاکٹر محمد واسع کے مطابق فالج کی علامات ظاہر ہوتے ہی مریض کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ابتدائی چند گھنٹوں میں علاج سے دماغ کو ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے اور مریض کی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

طبی ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھیں، باقاعدہ ورزش کریں اور تمباکو نوشی سے اجتناب کریں تاکہ فالج کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں