روزانہ ایک گلاس جوس ڈپریشن کم اور موڈ بہتر کر سکتا ہے۔
نیوکاسل یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جن افراد نے روزانہ پھلوں کا جوس یا اسموتھی استعمال کیا اور ساتھ ہی پھلوں اور سبزیوں کی مقدار میں اضافہ کیا ان میں چار ہفتے بعد ڈپریشن کی سطح کنٹرول گروپ کے مقابلے میں کم پائی گئی۔
یہ نتائج برطانوی جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئے اور انہیں ویب سائٹ سائنس ڈیلی نے بھی رپورٹ کیا۔محققین کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج غذا اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شواہد میں اضافہ کرتے ہیں۔
تحقیق اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ غذا میں سادہ اور عملی تبدیلیاں ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تحقیق میں 42 بالغ افراد کو شامل کیا گیا جو تحقیق کے آغاز پر روزانہ دو یا اس سے کم مرتبہ پھل اور سبزیاں استعمال کرتے تھے۔ انہیں تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا جن میں ہر گروپ میں 14 افراد شامل تھے۔
پہلے گروپ نے اپنی معمول کی خوراک جاری رکھی اور اسے کنٹرول گروپ قرار دیا گیا۔ دوسرے گروپ کو روزانہ پانچ حصے تازہ پھل اور سبزیاں استعمال کرنے کی ترغیب اور معاونت فراہم کی گئی جبکہ تیسرے گروپ کو بھی پھلوں اور سبزیوں کے استعمال میں اضافہ کرکے روزانہ پانچ حصے لینے کی ہدایت کی گئی، تاہم اس کے ساتھ روزانہ ایک گلاس پھلوں کا جوس یا اسموتھی بھی شامل کیا گیا۔
چار ہفتے بعد غذائی تبدیلی کی ہدایت حاصل کرنے والے دونوں گروپوں میں پھلوں اور سبزیوں کے استعمال میں اضافہ ہوا تاہم جوس اور اسموتھی استعمال کرنے والے گروپ میں ڈپریشن کی اسکور میں اعدادوشمار کے اعتبار سے نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔