سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) عمران خان کو آئندہ سماعت تک نجی اسپتال منتقل کرنے اور ان کی اپنی بہن عظمیٰ خان اور ذاتی معالج سے ملاقات کروانے کا حکم دے دیا۔
بانی پی ٹی آئی سے بہنوں سمیت دیگر کی ملاقات اور ذاتی معالجین تک رسائی کے کیس میں سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی الشفاء انٹرنیشنل اسپتال میں رکھا جائے۔ ذاتی معالج فیصل سلطان کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے اور میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا جائے جس میں ماہر آنکھ، جنرل میڈیشن اورڈاکٹر فیصل سلطان شامل ہوں۔
حکم نامے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے علاج کے اخراجات فیملی اٹھائے جبکہ اہل خانہ سمیت وکلاء بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ میڈیا سے شیئر نہ کریں۔ حکومت بانی پی ٹی آئی کی فیملی کے ساتھ ہفتہ وار ملاقات کروانے کا انتظام کرے۔ بانی کی بچوں کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کا انتظام بھی کیا جائے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کہ اسپتال کےباہر کسی قسم کا اجتماع نہیں ہوگا۔بانی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ احکامات کی خلاف ورزی پر یہ حکم نامہ واپس لے لیا جائے گا۔ حکومت محسوس کرے کہ احکامات کی خلاف ورزی ہوئی تو سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتی ہے جبکہ بانی سے متعلق کے احکامات پر عمل نہ ہونے پر وہ بھی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔