loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
30-Aug-2026
15-Rabi' al-Awwal-1448

سانحہ پمز سے قائمہ کمیٹی برائے صحت نے اسپتال انتظامیہ کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق  پمز اسپتال میں بچوں کی نرسری میں آگ کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین تاحل نہیں ہوسکا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے اسپتال کے عملے اور انتظامیہ کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واقعےکے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور اسٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کردیا جبکہ  وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی اخلاقی طورپر مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

پمز اسپتال کے دورے کے بعد ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کل ایئر کنڈیشنر سے آگ لگنےکا بتایا، آج پتا چلا کہ اے سی تو کام ہی نہیں کررہا تھا۔ سی سی ٹی وی سے بھی نہ پتا چل سکا کہ آگ کیسے لگی۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ نرسوں کو بٹھا کر ایک بیان یاد کرایا گیا۔

مہیش کمار نے واقعے کی خود تحقیقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نرسری 1990کی بنی ہوئی ہے۔ چھوٹے بچوں کو نئے بلاک کی نرسری میں رکھنا چاہیے تھا۔ قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے کہاکہ پمز اسپتال کے دورے میں انہیں پتا چلا کہ نرسری میں 15 نہیں بلکہ 40 سے 50 بچے موجود تھے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بغیر ڈی این اے کے بچے لواحقین کو کیسے دے دیے گئے؟

دوسری جانب پمز انتظامیہ نے سانحے پر اپنی بھی تحقیقاتی کمیٹی بنادی۔۔  اسپتال انتظامیہ نے آگ لگنےکےواقعے کی تحقیقات کےلیے پروفیسرڈاکٹرعاطف انعام کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی بنادی،کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پمز نے اخلاقی بنیادوں پر استعفا دینے سے انکار کردیا ۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں