ایران نے امریکا کے لارک آئی لینڈ پر حملے کے بعد اردن میں 2 امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اردن کے کنگ حسین اور الازرق فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات، تکنیکی اور مرمتی ڈھانچے اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو نقصان پہنچا تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکا کی جانب سے جنوبی ایران کے لارک آئی لینڈ پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ ایرانی حکام نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا۔ اردنی حکام کے مطابق حملوں میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی فوج نے لارک آئی لینڈ پر کارروائی کو جارحیت قرار دینے سے انکار کر دیا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے محدود اور درست کارروائی کی۔