loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
14-Oct-2026
2-Jumada al-Awwal-1448
☰
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
14-Oct-2026
2-Jumada al-Awwal-1448

انڈے میں موجود کولیسٹرول کی مقدار کے باعث اسے طویل عرصے سے بحث کا موضوع سمجھا جاتا رہا ہے۔بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اس کا دل کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ انڈا کھانے سے دل کی صحت کے اشاریوں پر منفی اثر نہیں پڑتا تاہم دوسری جانب  دوسری جانب بعض مطالعات میں زیادہ مقدار میں انڈے کھانے کو ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافے سے جوڑا گیا ہے لہٰذا ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو چاہیے کہ انڈے کی مناسب مقدار کا تعین کرنے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

انڈے کے استعمال اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق اب بھی سائنسی بحث کا موضوع ہے کیونکہ مختلف تحقیقات میں متضاد نتائج سامنے آئے ہیں۔ایک طرف انڈا ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے تجویز ڈائٹ کا حصہ ہےتو دوسری جانب کچھ افراد کے لیے یہ نقصان دہ بھی ثابت ہوا۔

تحقیق کے مطابق زیادہ تر افراد کے لیے دل کے لیے صحت بخش متوازن غذا کے ساتھ اعتدال میں انڈے کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح بڑھنے یا دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافے کے واضح شواہد نہیں ملتے۔ تاہم کچھ افراد کے لیے انڈوں کے استعمال میں احتیاط ضروری ہو سکتی ہے۔

عام خیال کے برعکس زیادہ تر افراد میں انڈے کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں اضافہ نہیں ہوتا۔جب ہم کولیسٹرول سے بھرپور غذائیں کھاتے ہیں تو جسم عموماً اپنی اندرونی کولیسٹرول کی پیداوار کم کرکے اس کی تلافی کرتا ہے جس سے خون میں کولیسٹرول کی سطح پر اثر محدود رہتا ہے۔

اگرچہ زیادہ تر افراد کے لیے انڈے محفوظ ہیں تاہم کچھ لوگوں کو ان کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے مثلاً ذیابیطس کے مریض دل کے امراض میں مبتلا افراد یا وہ لوگ جن میں موروثی طور پر کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہو۔ایسی صورتوں میں بہتر ہے کہ انڈے کی مناسب مقدار کا تعین کرنے کے لیے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کیا جائے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں