loader-image
Karachi, PK
temperature icon 35°C
15-Oct-2026
3-Jumada al-Awwal-1448
☰
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 35°C
15-Oct-2026
3-Jumada al-Awwal-1448

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کی شرمناک شکست کے بعد کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو ٹیسٹ سیریز کے دوران اچانک تبدیل کرنے کے فیصلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) پر پھٹ پڑے۔

شاہد آفریدی نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو میں  پی سی بی کے حالیہ فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی سی بی نے غلط اور برا فیصلہ لیا ہے جو فیصلے لینے تھے وہ سیریز ختم ہونے کے بعد لے لیتے ۔دنیا ہم پر ہنس رہی ہے ہم نے خود اپنا مذاق بنایا۔ اگر یہ چیئرمین پی سی بی کا بھی فیصلہ تھا تو بھی سلیکشن کمیٹی کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے تھی ۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ سونے پر سہاگہ یہ کہ تیسرے ٹیسٹ کے لیے جو لڑکے بھیجے ہیں وہ ٹی 20 کے لڑکے ہیں ۔اصل مسئلہ فیصلوں میں تسلسل کا ہے۔ ہمارے فیصلوں میں نہ تو تسلسل ہوتا ہے اور نہ ہی میرٹ پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔شاہد آفریدی نے محسن نقوی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کرکٹ پر سب سے زیادہ توجہ دیں اور دوسروں پر ذمہ داریاں نہ چھوڑیں ۔

شاہد آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ سرفراز احمد جب پی سی بی میں آیا تو میں بہت خوش تھا کہ وہ انڈر 19 لیول پر کام کرےگا۔ 3 مہینے میں ہی سرفراز احمد پاکستان ٹیم کا ہیڈ کوچ بن گیا ۔یہ کونسا پراسس ہے کہ جس کے تحت سرفراز احمد کو 3 مہینے میں ہی ہیڈ کوچ لگا دیا گیا؟

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں