پاکستانی ریپر علی گل پیر نے اپنے مشہور گانے ’وڈیرے کا بیٹا‘ سے ملنے والی شہرت کی کہانی سنا دی۔
ریپرعلی گل پیر نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں موجود مختلف کرداروں نے مجھے وڈٰیرے کا بیٹا گانے کا خیال دیا جن میں جاگیردار خاندانوں کے وہ بیٹے بھی شامل تھے جو میرے اسکول میں پڑھتے تھے۔ وہ لڑکے ایک پک اپ وین میں سفر کرتے تھے جبکہ دوسری گاڑی میں ان کے محافظ ہوتے تھے۔ انہیں دیکھ کر طلبہ انہیں ’سائیں‘ کہہ کر پکارتے تھے۔
گلوکار کے مطابق پروڈکشن ہاؤس میں تقریباً 6 سے 7 ماہ کام کرنے کے بعد میں نے یہ گانا لکھا اور اسے مکمل کرنے میں تقریباً 1 گھنٹہ لگا۔ میرا مقصد جاگیردار کے بیٹے کے نقطۂ نظر سے ایک مزاحیہ گانا پیش کرنا تھا۔
علی گل پیر کا کہنا تھا کہ گانے کی ویڈیو بنانے کے لیے ایک ایسے دوست سے کیمرا ادھار لیا جو شادیوں کی ویڈیوز بناتا تھا۔ دوستوں کی مدد اور مختلف لوگوں کے تعاون سے تیار کیے گئے اس گانے کا کل بجٹ تقریباً 15 ہزار روپے تھا۔ اس وقت ٹیلی ویژن پر کئی میوزک چینلز موجود تھے۔ میں نے ایک چینل سے رابطہ کیا تاہم انہوں نے یہ کہہ کر گانا نشر کرنے سے انکار کر دیا کہ اس میں نہ کوئی لڑکی ہے نہ رومانس اور نہ ہی محبت کی کہانی اس لیے یہ ٹی وی پر نہیں چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ مایوس ہو کر میں نے 2012ء میں گانا یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیا۔ ویڈیو نے صرف 4 گھنٹوں میں ایک لاکھ ویوز حاصل کر لیے اور مجھے راتوں رات شہرت مل گئی۔شہرت کے فوراً بعد مالی فوائد حاصل نہیں ہوئے۔ اس وقت بھی میں بسوں میں سفر کرتا تھا جبکہ کام اور آمدنی آہستہ آہستہ آنا شروع ہوئی۔ ’وڈیرے کا بیٹا‘ کی کامیابی کے بعد شوبز میں نئے مواقع کے دروازے کھلے۔