loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
14-Oct-2026
2-Jumada al-Awwal-1448
☰
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
14-Oct-2026
2-Jumada al-Awwal-1448

امریکا میں ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیے نمک کی مقدار میں کمی کافی نہیں ہے۔

میڈیکل نیوز ٹوڈے کے مطابق حال ہی میں دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں ہائی بلڈ پریشر کم کرنے سے متعلق موجودہ رہنما اصولوں کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور تجویز دی گئی ہے کہ بلڈ پریشر کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے لوگ سوڈیم کی مقدار کم کرنے کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم کی مقدار بھی بڑھائیں۔

رپورٹ کے مطابق  امریکا کے زیادہ تر شہری روزانہ تقریباً 3,400 ملی گرام سوڈیم استعمال کرتے ہیں جو وفاقی اور طبی رہنما اصولوں میں تجویز کردہ2,300 ملی گرام سے زیادہ ہے۔ اس کا تقریباً 70 فیصد حصہ ریستورانوں اور پراسیس شدہ کھانوں سے حاصل ہوتا ہے۔ امریکا کے 98 فیصد سے زائد بالغ افراد بھی روزانہ خوراک میں پوٹاشیم کی تجویز کردہ مقدار پوری نہیں کرتے۔

بلڈ پریشر کے لیے پوٹاشیم کیوں اہم ہے؟

ماہرین نے تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ سوڈیم اور پوٹاشیم کا تناسب صرف سوڈیم کی مقدار کے مقابلے میں قلبی صحت کے نتائج کا زیادہ درست اندازہ لگاتا ہے۔ زیادہ مقدار میں سوڈیم کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک ہے۔

آر ڈی این، سی ایس آر، ایل ڈی این بورڈ سے تصدیق شدہ ماہر غذائیت برائے امراض گردہ ہرنینڈز نے بتایا کہ 2025 میں کی گئی ایک میٹا تجزیاتی تحقیق میں معلوم ہوا کہ روزانہ تقریباً دو ہزار ملی گرام پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے سے ہائی بلڈ پریشرکم ہوسکتا ہے۔

فلوریڈا کے بورڈ سے تصدیق شدہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر لیونارڈ پیانکو نے کہا کہ اگرچہ موجودہ طبی اصول بلڈ پریشر کم کرنے کے لیےکم سوڈیم والی خوراک کو ترجیح دیتے ہیں لیکن خوراک میں پوٹاشیم شامل کرنے کی بات کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جسم میں اندرونی توازن برقرار رکھنے کے لیے پوٹاشیم ایک اہم معدنی جز ہے اور اس کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہونا صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اور یہ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ سوڈیم اور پوٹاشیم جسم میں پانی کے توازن اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ساتھ کیسے کام کرتے ہیں جبکہDASH جیسے متوازن غذائی منصوبے بلڈ پریشر کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

روزانہ کتنی مقدار میں سوڈیم استعمال کرنا چاہیے؟

ڈاکٹر لیونارڈ پیانکو نے کہا کہ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن روزانہ2,300 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم استعمال نہ کرنے کی تجویز دیتی ہے جبکہ زیادہ تر بالغ افراد خصوصاً ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے تقریباً1,500 ملی گرام روزانہ کا ہدف زیادہ بہتر ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ سوڈیم کے استعمال میں اصل مسئلہ کھانے پر نمک چھڑکنے کا نہیں بلکہ ان غذاؤں میں موجود چھپے ہوئے نمک کا ہے، جن میں ریسٹورنٹ کے کھانے، ڈبہ بند یا منجمد غذائیں، پیک شدہ ڈبل روٹی اور اسنیکس شامل ہیں۔

کون سی غذائیں پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہیں؟

ماہر غذائیت ہرنینڈز نے بتایا کہ پھل، سبزیاں اور دالیں پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں ہیں جو بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر لیونارڈ پیانکو کے مطابق پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے کے لیے عام طور پر کیلا سب سے آسان انتخاب سمجھا جاتا ہے لیکن خربوزہ بھی پوٹاشیم سے بھرپور پھل ہے۔ اس کے علاوہ سفید لوبیا، دالیں، سادہ دہی، سالمن مچھلی، چھلکے سمیت بیک کیا ہوا آلو، پالک اور ایڈامامے بھی پوٹاشیم کے اچھے ذرائع ہیں، ان میں سے بعض غذاؤں میں کیلے کے مقابلے میں بھی زیادہ پوٹاشیم ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن اس وقت بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد کے لیے روزانہ3,500 سے 5,000 ملی گرام پوٹاشیم حاصل کرنے کا ہدف تجویز کرتی ہے۔

ہرنینڈز نے روزمرہ خوراک میں شامل کی جانے والی پوٹاشیم سے بھرپور بعض غذاؤں کے نام بھی بتائے ہیں، جن میں چھلکے سمیت آلو، سالمن مچھلی، تازہ پکا ہوا پالک، کچا خربوزہ، دودھ، پنٹو بینز شامل ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں